بھٹکل12 اپریل ( ایس او نیوز )بھٹکل کے معرو ف نوائطی شاعر جناب محمد علی پرواز کا آج شام 87سال کی عمر میں بھٹکل میں انتقال ہوگیا ۔ علی پرواز کے انتقال سے اردو اور نوائطی شاعری کی ایک مستحکم آواز خاموش ہو گئی ہے ۔ ان کے انتقال کی وجہ سے بھٹکل کے نوائطی اور اردو ادب کے قارئین میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ پرواز صاحب ادھر کئی عرصہ سے اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے صاحب فراش تھے اور کسی بھی ادبی پروگرام میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔ پرواز صاحب نے اپنی جوانی کے ایام دبئی میں گزارے اس دوران آپ نے وہاں کی جماعتی سر گرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ آپ وہاں کی مشہور بن دلموک مسجد میں دو وقت آذان دینے پر مامور تھے ۔ آپ خوش گلو آواز کے مالک تھے ، نوائطی اور اردو مشاعروں میں اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے ۔ موجودہ سماج کی کمیوں اور خامیوں کو انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ۔ ان کی بعض نظمیں انتہائی شاہکار ہیں جن میں بھٹکل کے بعض علاقوں میں غربت کی وجہ سے تنگ زندگی گزار رہے خاندانوں کی صورتحال کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔ آپ ایک اچھے خوش نویس بھی تھے ۔ بعض ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آپ نے اپنے شروع دور میں ممبئی کے روزنامہ انقلاب کے لئے اخبار نویسی کا بھی کام کیا ۔ بھٹکل میں آپ نے نوائطی ادب و شاعری اور تہذیب کی ترویج کے لئے قائم نوائط محفل کے ساتھ بھی تعاون کیا ۔ کچھ ہی مہینوں قبل ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں نوائط محفل کی جانب سے ایک سپاس نامہ پیش کر کے ان کی شال پوشی کی گئی تھی ۔ اپنی بہت ساری صلاحیتوں کی وجہ پرواز صاحب دیر تک یاد رکھے جائیں گے ۔ ان کے انتقال پر بھٹکل کے اہل ذوق میں سوگ کا ماحول ہے ۔ ساحل آن لائن ان کے تمام لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے بلندی درجات کے لئے دعا گو ہے ۔