ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور: بھاری برسات میں لاش کندھوں پر اٹھا کر طغیانی زدہ ندی پار کرنے پر مجبور دیہاتی، ویڈیو وائرل

ہوناور: بھاری برسات میں لاش کندھوں پر اٹھا کر طغیانی زدہ ندی پار کرنے پر مجبور دیہاتی، ویڈیو وائرل

Sat, 04 Jul 2026 19:41:29    S O News
ہوناور: بھاری برسات میں لاش کندھوں پر اٹھا کر طغیانی زدہ ندی پار کرنے پر مجبور دیہاتی، ویڈیو وائرل

ہوناور، 4 جولائی (ایس او نیوز): اترا کنڑ ضلع کے ہوناور تعلقہ کے دوڈا ہیتلا کیری گاؤں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان نے ایک بار پھر دیہی ترقی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

گاؤں تک مناسب سڑک اور پل نہ ہونے کے باعث مقامی افراد کو ایک متوفی کی لاش آخری رسومات کے لیے کندھوں پر اٹھا کر برسات سے لبریز اور طغیانی زدہ بھاسکیری ندی عبور کرنی پڑی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق دوڈا ہیتلا کیری کے رہائشی کرسٹین روڈرگس طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ تدفین کے لیے لاش کو گاؤں سے باہر لے جانا ضروری تھا، لیکن گاؤں کو بیرونی علاقے سے جوڑنے کے لیے نہ کوئی پل موجود ہے اور نہ ہی قابل استعمال سڑک۔ نتیجتاً دیہاتیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لاش کو کندھوں پر اٹھایا اور تیز بہاؤ والی بھاسکیری ندی کو پیدل عبور کیا۔

مقامی افراد کے مطابق دوڈا ہیتلا کیری اور گجنی کیری، جہاں پچاس سے زائد خاندان آباد ہیں، آج بھی بنیادی رابطہ سڑک اور پل جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ہر سال برسات کے موسم میں ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد گاؤں کا دیگر علاقوں سے رابطہ تقریباً منقطع ہو جاتا ہے اور لوگوں کو روزمرہ ضروریات، علاج معالجے اور ہنگامی حالات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام اور مقامی رکن اسمبلی کو یادداشتیں پیش کی جا چکی ہیں، تاہم اب تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث انہیں ہر برسات میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ندی عبور کرنا پڑتی ہے۔

دوسری جانب کمٹہ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سڑک کے مسئلے پر کسی قسم کا میمورنڈم موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق حلقے میں اس نوعیت کے کئی مسائل موجود ہیں، تاہم فنڈز کی شدید کمی کے باعث تمام منصوبوں پر بیک وقت عملدرآمد ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوسٹل اتھارٹی کی جانب سے اس مرتبہ صرف 25 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ ان کی حکومت کے دور میں اس مد میں دو کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فنڈز دستیاب ہوتے ہی اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

ادھر واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد مقامی باشندوں نے ایک بار پھر حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کو بنیادی سڑک اور پل جیسی سہولتیں فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی خاندان کو اس طرح کے دل خراش اور خطرناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Click here for video 


Share: