حیدرآباد،29؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) سال 2007 میں حیدر آباد بم دھماکہ میں اپنے والدین کو کھودینے والی ایک مسلم لڑکی کو گود لینے کی وجہ سے ایک شخص پر لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ 16 مرتبہ چاقووں سے حملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ جس شخص پر چاقو سے حملہ کیا گیا ہے ، اس کا نام پپالال روی کانت بتایا جارہا ہے ۔ اس شخص کا عثمانیہ اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ اس شخص پر یہ حملہ یکم جون کو ہوا تھا۔
برادری کے جذبات کے برخلاف پپالال اور ان کی اہلیہ جے شری نے ثانیہ فاطمہ کو گود لیا تھا۔ ہندو جوڑے کے ذریعہ مسلم لڑکی کو گود لینے کی ہندو اور مسلم دونوں فرقے کے لوگ مخالفت کررہے تھے۔
متاثرہ شخص کو اگست 2007 میں دھماکہ کی جگہ پر گوکل چاٹ سینٹر کے پاس ایک چھوٹی لڑکی ملی تھی ، جس کو اس نے گود لے لیا۔ ہندو جوڑے کا کہنا ہے کہ جو بھی ہوجائے وہ لڑکی کو نہیں چھوڑیں گے ۔ خیال رہے کہ یہ جوڑا لڑکی کی پرورش ایک مسلم کی طرح ہی کررہا ہے ۔ دونوں کی جانب سے لڑکی پر مذہب تبدیل کرنے کیلئے کسی بھی قسم کا کوئی دباو نہیں ہے۔