بھٹکل:6/ مارچ (ایس اؤنیوز)حالیہ دنوں میں مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے خلاف دوٹوک بیانات جاری کرتےہوئے اترکنڑا ضلع کی سیاست میں گرمی پیدا کرنے والے سابق وزیر ،بی جے پی لیڈر آر این نائک بنگلورو میں منعقدہ ایک پروگرام میں کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے۔
بیدر کے اشوک کھینی کوکانگریس میں شامل کرنے کے لئے جو پروگرام منعقد کیا گیا تھا اسی میں کانگریس کے ریاستی صدر پرمیشور اور تشہیری کمیٹی کے صدر اور وزیر ایندھن ڈی کے شیوکمار نے آر این نائک کا پارٹی میں استقبال کیا۔مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے دستور تبدیلی کی بات کہنے پر آڑے ہاتھوں لیا تھا اور وزیر اعلیٰ سدرامیا کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال پر پریس کانفرنس کے ذریعے انہیں کھری کھری سنائی تھی ۔ تین مرتبہ رکن اسمبلی کے طورپر منتخب ہونےو الے آر این نائک ویرپا موئیلی کی وزارت میں بحیثیت سے وزیر خدمات انجام دی تھیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق آر این نائک کی کانگریس میں شمولیت کے لئے وزیرا علیٰ سدرامیا اور راجیہ سبھا ممبر بی کے ہری پرساد کے اثرات کا ذکر کیا جارہاہے۔ وہیں یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈےلگاتار کانگریس اور وزیراعلیٰ کے خلاف ترش رویہ اختیار کرتےہوئے نازیبا الفاظ کا استعمال کرنےکے باوجود اترکنڑا ضلع کے لیڈران خاموش ہیں اور کوئی بھی مضبوط آواز میں جواب نہیں دینے پر اعلیٰ کمان بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح نظریاتی طورپر سامنا کئے بغیر خاموش رہنا اگلے ودھان سبھا انتخابات میں پارٹی کو نقصان کا خدشہ پاکر خود وزیرا علیٰ ضلع کے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لیڈران کو پارٹی میں شامل کرنے اپنے قریبی افراد کو ہدایات دی تھیں۔
کانگریس میں شمولیت کے بعد آراین نائک نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں کوئی خواہشات و امیدوں کے ساتھ کانگریس میں شامل نہیں ہواہوں۔ پسماندہ طبقہ سےتعلق رکھنے کے باوجود اگر میں رکن اسمبلی اور وزیر بننے کےلئے ہمارا دستور ہی اہم وجہ ہے مگر آج منو وادیوں سے دستور کو خطرہ ہے۔ پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ کے خلاف رکیک الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کی جارہی ہے۔ ان حالات کودیکھتے ہوئے خاموش رہنا مناسب نہیں ہے ایسے لوگوں کے خلاف جدوجہد کرنےکے لئے ہی کانگریس میں شامل ہونے کی بات کہی۔