سرسی:14/ جنوری (ایس اؤنیوز)سرسی میں ہمارا دستور ،ہمارا فخر :پیار کی باتوں کا سفر کے عنوا ن پرکنڑا کے مشہور و معروف ادیب رحمت تریکیرے کی صدارت میں سنیچر کو ریاستی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ملک بھر کے دانشور، مفکر ، ادباء اور صحافیوں نے خطاب کرتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر زور دیا اور شرپسندوں کی کوششوں کو ناکام بنانے سبھی امن پسند عوام کو متحد ہونے کی آواز دی ۔
جلسہ میں صدارتی خطاب کرتےہوئے رحمت تریکیرے نےکہاکہ موجودہ دورمیں لاشوں پر سیاست کی جارہی ہے ، یہ لوگ انسانی تعلقات کو بربادکرنے کے انتظارمیں ہیں، ملک کے مقدس دستور کو بدلنے کی باتیں کی جارہی ہیں،ایسے میں اہم آہنگی کی زندگی غائب ہوتی نظر آرہی ہے، انہوں نے ان سب کے ازالے کے لئے تمام سیکولر عوام کو متحد ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ آگ کا جواب آگ نہیں ہے ، آگ کو بجھانے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لئے نفرت کا جواب دینے کے لئے پیار اور ہم آہنگی ہی بہترین جواب ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے عوام کو مہاتما گاندھی اور سوامی وویکانند کی فکر کاپروردہ ہونا چاہئے۔
مشہور شاعرہ ونیا وکوند نے کہاکہ بھلے ہی کسی واقعہ پر ہمیں غصہ نہیں آتا، لیکن ہم میں تڑپ ہوتی ہے، ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ صرف مرنے والے ہی نہیں ، بلکہ قتل کرنے والے بھی ہماری ہی اولاد ہیں، ہماری گود میں ، ہمارے صحن میں ، ہمارے اسکولوں میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھنے والے بچے قاتل کیوں بن رہے ہیں۔ ایسے بچے آخر کیوں زانی بن جاتے ہیں، یہ لوگ کیوں ظالمانہ روش اختیار کرتے ہوئے بربریت کے ساتھ قتل کرتے ہوئے قاتل بن جاتے ہیں؟ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک نظریہ کی طرف اور کسی تنظیم کی طرف اشارہ کرنا بہت آسان ہے ۔ لیکن ان سب واقعات کی حقیقی وجہ یہ صرف ہماری خاموشی ہے، ہماری مفاد پرستی کی خاموشی اور ہماری بے توجہی کی خاموشی ہے۔
ہم عورتوں نے دھرم پر، عدالتوں پر اور اقتدار پر بھروسہ کیا لیکن ہمیں کہیں پر بھی انصاف نہیں ملا۔ آج عورتوں پر زبردستی فرقہ پرستی تھوپی جارہی ہے، ان کی آواز کا اغواکیا جارہاہے،ان کی آوازکو دبایا جارہاہے، خواتین اپنی آواز بلند نہیں کرتےہوئے فرائض سے غفلت برت رہے ہیں جس کا یہ نتیجہ ہے۔ جن کے ہاتھوں میں چوڑیا ں ہیں ان کو بات کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے، انہوں نے اپیل کی کہ شرمناک قتل جیسی بربریت کی مخالفت کرنے کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستی کے زہر سے اقتدار حاصل کرنےو الے آج عوامی سطح پر زہر پھیلارہے ہیں۔ گمراہ بچوں کو کیسے راہ راست پر لانا ہے اس کے لئے ہمیں غور وفکر کرنا ضروری ہے ورنہ پوری زندگی لہولہان ہوجائے گی۔ انہوں نے اپنی بات کو دھرایا کہ ہمیں غصہ نہیں ، ہم میں تڑپ ہے ، اسی لئے آج یہاں جمع ہوئے ہیں۔
سنئیر صحافی رمضان درگاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دشمنو ں کو پیدا کرکے ان کے ذہنوں میں ظلم و بربریت پرورش اور مشتعل کرنے کی منصوبہ بند سازش کی جارہی ہے۔ آج ملک میں دستور کومٹانےکی باتیں ہورہی ہیں، عوام کو شعوری طورپر انہیں فرقہ پرست بنایاجارہاہے، جب شرپسندقیادت پر فائز ہوں گے اور شریف لوگ گھرو ں میں بیٹھیں گے اور تجزیہ کرتے رہیں گے تو فرقہ وارانہ فسادات کو مزید موقع ملے گا، انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف باشعور اور سنجید ہ لوگوں کو کھڑےہونا چاہئے۔
آج انسان کی حساسیت غائب ہوتی جارہی ہے۔ عورتیں، بچے اور تمام دھرموں کے غریب عوام فرقہ پرستی کے نام پر قربان ہورہے ہیں۔ ملک کی اکثریت ہندوؤں کے باطن کو برباد کرنے والا کوئی ہندوتوا یہاں نہیں ہے، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہمیں یہ سمجھ کر چلنا چاہئےکہ اس ملک میں ہندوؤں کے تعاون کے بغیر مسلمان امن سے نہیں رہ سکتے ۔
سُودّی ٹی وی چینل کے سنئیر صحافی ششی دھر بھٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دستور کو کمزور کرنےکے حالات پیدا کئے جارہے ہیں۔ دھرم اور سیاست ایک دوسرے میں مدغم ہونےکی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں۔
انہوں نے ااج کی میڈیا کو منوواد کو بونے والا مرکز قرار دیا اور کہا کہ میڈیا پر کنٹرول کرنا خطرے کی گھنٹی ہے ،آگے بتایا کہ اکثرمیڈیاکو خریدلیا گیا ہے جو بی جے پی ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرف فوری توجہ نہیں دی گئی تو بھارت اپنی تکثریت کھو کر پاکستان کی طرح ہوجائے گا، مزید بتایا کہ حقیقی مذہبی انسان کبھی بھی فرقہ پرست نہیں ہوتا، انہوں نے تمام لوگوں کو اس کے خلاف جدوجہد کرنا لازمی قرار دیا۔
گجرات کے احمد آباد میں حقوقِ انسانی کے جہد کار مارٹن ماکوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی ایک بھی دکھی ہے تو اس ملک کو سکھی دیش کہنا ممکن نہیں ہے۔ حقیقت میں جہاں مساوات نہیں ہے وہ ملک کہلانے کے اہل نہیں ہے۔ آزادی کے 70برس بعد بھی جمہوریت خطرےمیں ہے۔ملک میں پہلی بار سپریم کورٹ کے 4سنئیر جج حضرات نے روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کے سامنے پیش ہوئے ہیں، عدلیہ نظام کے خلاف بات کرنےکامطلب جمہوری نظام خطرے میں ہونے کا ثبوت ہے۔
جن وادی سنگھا کی کے ایس وملا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یک جہتی اور مساوات ہی اس مٹی کی اصل شان اور مقصد ہے ۔ اس کے بر خلاف جب امن میں خلل پیدا ہوتاہے تو امن پسند لوگوں کوچاہئے کہ وہ امن آمان بحال کرنے کا کام کریں۔