ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / آئی ایف ایس افسر سنجیو چترویدی کو دہلی ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت

آئی ایف ایس افسر سنجیو چترویدی کو دہلی ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت

Mon, 27 Jun 2016 22:55:46    S.O. News Service

نئی دہلی،27؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ہائی کورٹ نے سنجیو کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں منگل کو مرکز کے ڈپیوٹیشن میں اضافہ اور ایمس میں کام کرنے کی اپیل کی گئی تھی یعنی ہائی کورٹ کے حکم کے بعد منگل کو ہی سنجیو کو مرکز کی ڈپیوٹیشن خدمت سے آزاد ہونا پڑے گا۔دہلی ہائی کورٹ میں چترویدی نے کہا کہ میں ہریانہ کیڈر سے آیا تھا، دو سال سے مجھے کام نہیں دیا گیا۔مجھے ایمس میں کام نہیں کرنے دیا گیا کیونکہ میں نے سی وی او رہتے ہوئے ایمس کے گھوٹالوں کی سی بی آئی جانچ کروانے کو کہاتھاارو کئی گھوٹالوں کو بے نقاب کیاتھا۔سنجیو نے آگے کہا کہ ایمس کے ڈائریکٹر خود بدعنوانی میں ملوث تھے۔یہاں تک کہ اسی وجہ سے وزیر صحت جیسے ہائی پروفائل لوگ میرے پیچھے لگ گئے۔
سنجیو نے کہاکہ موجودہ وزیر صحت نے مجھے سی وی او کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا، ایمس میں دوسراسی وی او مقرر کر دیا گیا۔ایسا اس لیے ہوا کیونکہ جب وہ ایم پی تھے، اس وقت میں ایک معاملے کی جانچ کر رہا تھا جس میں ان کے رول کی بھی جانچ ہو رہی تھی، اس وقت بھی انہوں نے حکومت کو خط لکھا تھا۔اپنی بات میں سنجیو نے کہا کہ بعد میں وزیر صحت بننے کے بعد انہوں نے مجھے ہٹا دیا۔میرا مرکز میں ڈپیوٹیشن منگل کو ختم ہو رہا ہے،اس لیے ا میرا ڈپیوٹیشن بڑھایا جائے اور مجھے واپس کام دیا جائے۔وہیں مرکز نے ہائی کورٹ میں کہا کہ سارے الزامات بے بنیاد ہیں اور سنجیو ہریانہ کیڈر میں فارسٹ سروس کے افسر ہیں ناکہ ایمس کے افسر ہیں۔ان کی ہریانہ میں سابقہ حکومت سے بھی ان بن رہی ہے اور ان پر الزامات لگتے رہے ہیں۔یعنی ان کو پریشانی ایک شخص سے نہیں بلکہ سب سے ہے۔حکومت کے وکیل نے کہاکہ حکومت اپنے ملازمین کو کام سونپتی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے، یہ حق حکومت کا ہے، وہ کس طرح آپ کی پسند کا کام مانگ سکتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے، انہیں کام دیا گیا ہے، انہیں ایمس میں ڈپٹی ڈائریکٹر انتظامیہ کے ساتھCVOکا اضافی کام دیاگیاتھاجوواپس لے لیاگیا۔مرکز کے مطابق چترویدی نے اپنے ہریانہ کیڈر سے اتراکھنڈ کیڈر میں ٹرانسفر مانگا تھاجو حکومت نے کر دیاتھا۔رٹ میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے کہاکہ 19مئی کو سنجیو نے دو ماہ کی چھٹی مانگی تھی، انہیں بھی دے دی گئی۔اس کے ساتھ انہوں نے کہاتھا کہ ان دو ماہ کی تعطیلات کے بعد مجھے واپس ہریانہ کیڈر میں جانے کیلئے سوچنے کا وقت دیا جائے۔سنجیو حکومت پردباؤبنا کرکام کرناچاہتے ہیں۔ان کا مرکز میں ڈیپیوٹیشن منگل28جون کو ختم ہورہاہے اس لئے انہیں واپس اسٹیٹ کیڈر میں جانا ہے۔


Share: