ایڈنبرگ ،3 ؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )آئی سی سی نے ایل بی ڈبلیوسے متعلق امپائروں کے فیصلوں پر متنازعہ ڈی آر آیس سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے جس سے گیند بازوں کو مدد ملنے کا امکان ہے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں دو ڈویژن بنانے اور نئی ون ڈے لیگ سمیت بین الاقوامی کرکٹ میں اہم تبدیلیوں کے منصوبے کو ملتوی کر دیا ہے۔ کل رات بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا سالانہ اجلاس ختم ہوا جس میں آئی سی سی، آئی ڈی آئی اورآئی بی سی بورڈوں نے بی سی سی آئی کے سابق صدر اور اب آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر کی صدارت میں کئی موضوع پر بات چیت کی ، کچھ اہم فیصلے بھی کئے گئے۔آئی سی سی نے کہا کہ عالمی ادارے کی انتظامیہ میں تشکیل نو کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے جبکہ ڈربن میں 2022میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں میں خواتین کرکٹ کو شامل کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھا دیا گیا ہے۔کرکٹ کو اولمپک کھیل بنانے کے بین الاقوامی کرکٹ کمیٹی کے منصوبہ پر آگے بات چیت ہوئی۔ایل بی ڈبلیو پر امپائر کے فیصلے سے متعلق ڈی آر ایس کی پوزیشن کے بارے میں آئی سی سی نے کہا کہ اگر ایل بی ڈبلیو سے متعلق میدانی امپائر کا فیصلہ تبدیل کیا جاتا ہے تو اب گیند کا آدھا حصہ اسٹمپ کے علاقہ میں ہونا چاہیے جو کہ آف اور لیگ اسٹمپ سے باہر کی حد بھی ہوگی۔اس سے پہلے گیند کا آدھا حصہ آف اورلیگ اسٹمپ کے درمیان میں ہونا ضروری ہوتا تھا۔آئی سی سی نے کہا کہ یہ ترمیم یکم اکتوبر سے یا پھر اس تاریخ سے ٹھیک پہلے شروع ہونے والی کسی سریز ،جس میں ڈی آرایس ہو، نافذ ہو گی ۔نوبال سے متعلق فیصلوں میں آئی سی سی نے کہا کہ میدانی امپائروں کے بجائے تیسرے امپائر کو نوبال کہنے کی اجازت دینے کا ٹرائل اگلے کچھ مہینوں میں کیا جائے گا تاکہ یہ اچھی طرح سے پتہ لگایا جا سکے کہ کیا تیسرا امپائر فوری طور پر ری پلے کا استعمال کرتے ہوئے بالکل صحیح نوبال دے سکتا ہے۔آئی سی سی نے بیان میں کہاکہ یہ ٹرائل آئندہ ون ڈے سیریز کے دوران کیا جا سکتا ہے اور تیسرا امپائر گیند پڑنے کے کچھ سیکنڈ کے اندر نوبال دے گا اور اسے میدانی امپائر کو بتائے گا۔ٹرائل سے متعلق تفصیلی معلومات کا اعلان اس کو حتمی شکل دئیے جانے کے بعد کیا جائے گا۔اس درمیان بنگلہ دیش جیسے چھوٹے ممالک کے مستقل طور پر سیکنڈ ڈویژن میں جانے کے خطرے کو لے کر تشویش کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نے بین الاقوامی کرکٹ میں بیش قیمت تبدیلیاں کرنے کے فیصلے کو ملتوی کر دیا ہے۔اس کے بجائے وہ ستمبر کے شروع میں دبئی میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹر میں ورکشاپ کا انعقاد کرے گی ۔آئی سی سی نے کہاکہ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو کی کمیٹی نے بین الاقوامی کرکٹ کے ڈھانچے اور تینوں فارمیٹوں میں نئے ٹورنامنٹو ں کے آغاز کو لے کر مثبت بات چیت کی۔ممبران کو اس منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کرایا گیا ہے اور سبھی مانتے ہیں کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اسے مزید تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔آئی سی سی کی تنظیم نو پر بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی بورڈ کی اکتوبر میں ہونے والی میٹنگوں میں غور کے لیے آئندہ ہفتوں میں نئے آئین کا مسودہ تیار کیا جائے گا۔
آئی سی سی نے کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کی پیش کش کے بعد ڈربن میں 2022میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں میں خواتین کرکٹ کو شامل کرنے کو حمایت دینے پر بھی رضامندی کااظہار کیا۔اس سلسلے میں آئی سی سی درخواست د ے گی ۔آئی سی سی کی ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کرکٹ کو پروگرام میں شامل کرنا یقینی بنانے اور ٹورنامنٹ کی مخصوص ساخت اور کوالیفکیشن کاروائی کے لیے دولت مشترکہ کھیل فیڈریشن کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔انسداد بدعنوانی یونٹ کے صدر سر رونی
فلیگنن نے سالانہ پیش رفت کی معلومات دی جن میں متحدہ ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے پر ہوئی پیش رفت بھی شامل ہے۔بارباڈوس میں آئی سی سی کے گزشتہ سالانہ اجلاس میں انہیں منظوری دی گئی تھی۔بورڈ نے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو کے معاہدہ کو بھی بڑھانے کی منظوری دی۔آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن 2019سالانہ اجلاس تک اس رول میں رہنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔