ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آندھرا پردیش میں اقتدار میں آئی تبدیلی، پارٹی اراکین کے لیڈر منتخب ہوئے جگن موہن ریڈی

آندھرا پردیش میں اقتدار میں آئی تبدیلی، پارٹی اراکین کے لیڈر منتخب ہوئے جگن موہن ریڈی

Sun, 26 May 2019 11:21:09    S.O. News Service

آندھرا پردیش،26/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) آندھرا پردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت درج کرنے والی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر جگن موہن ریڈی کو ہفتہ کو متفقہ طور پر پارٹی اراکین کا لیڈر منتخب کیا گیا۔لوک سبھا انتخابات کے نتیجہ میں جہاں بی جے پی کی جیت پر بحث ہو رہی ہے وہیں ایک ریاست ایسا بھی ہے جہاں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پورے ملک کی توجہ اس جانب متوجہ کی ہے۔آندھرا پردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اقتدار کی تبدیلی ہو گئی ہے اور وائی ایس آر کانگریس نے اکثریت کے ساتھ فتح حاصل کر لی۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق وائی ایس آر کانگریس نے 175 اسمبلی سیٹوں میں سے 152 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔تیلگو دیشم پارٹی کا یہاں بہت برا حال ہوا ہے اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ٹی ڈی پی کو صرف 22 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی وائی ایس آر کانگریس کی جیت کے ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔جیسے ہی انتخابی نتائج سامنے آئے ریاست کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے سی ایم عہدے سے استعفی دے دیا۔حالانکہ گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے کہا ہے کہ نائیڈو اگلی حکومت بننے کے عمل کو شروع ہونے تک عہدے پر برقرار رہیں۔2014 کے انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کو 67 اور ٹی ڈی پی کو 103 سیٹیں ملی تھیں۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کون سی وجوہات تھیں جس سے وائی ایس آر نے شاندار واپسی کی اور ٹی ڈی پی کو اقتدار گنوانی پڑی۔2013 سے 2017 تک ٹی ڈی پی اور این ڈی اے اتحاد میں تھے لیکن چندرا بابو نائیڈو کافی وقت سے آندھرا پردیش کے لئے مودی حکومت سے خصوصی ریاست کے درجہ کا مطالبہ کر رہے تھے۔مرکز نے ان کی خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے کی مانگ کو ٹھکرا دیا تھا۔جس کے بعد ٹی ڈی پی صدر اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے مودی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے این ڈی اے سے اپنا ناطہ توڑ لیا تھا۔ٹی ڈی پی کے وزیر نے مرکزی حکومت سے اور بی جے پی کے وزیر نے آندھراپردیش میں ریاستی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔لیکن این ڈی اے سے الگ ہونے پر ٹی ڈی پی کو نقصان ہی اٹھاناپڑاہے۔


Share: