نئی دہلی18مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اب بی جے پی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی بجائے بیلٹ پیپرپرالیکشن کرانے کے لیے اپوزیشن کی مانگ پرمتفق ہو رہی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اگر تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہے تو مستقبل کے انتخابات میں ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپرپرانتخابات کرنے پرغورکیاجاسکتا ہے۔
ہفتہ کو، کانگریس نے اپنے 84ویں پلینری سیشن میں بیلٹ پیپرپرانتخابات کی تجویزپیش کی تھی، اس تعلق سے بی جے پی کے جنرل سکریٹری رام مادھو سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں کانگریس کو یاد دلانا چاہوں گا کہ بیلٹ پیپر کے بجائے، ای وی ایم سے انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ صرف اس وقت لیاگیا تھا جب اتفاق رائے بڑے پیمانے پر تھا۔اب، اگر ہر پارٹی کو لگتا ہے کہ ہمیں انتخابات پرانے طرز پر ہی بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کروانے ہیں، تو ہم اس پر غورکر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ عام انتخابات کے بعد، اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات کے نتائج کے بعد،کئی جماعتوں نے ای وی ایم کی معتبریت پرسوال اٹھایاتھا۔یہاں تک کہ گجرات کے انتخابات میں بھی ہاردک پٹیل سمیت بہت سے لوگوں نے، بی جے پی کی کامیابی کے لیے ای وی ایم کو ذمہ دار قراردیا تھا۔
کانگریس کے سیمینار میں بھی بیلٹ پیپر کے استعمال کو شروع کرنے کے لیے قرارداد منظور کی گئی تھی، کانگریس نے کہا کہ بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابی عمل سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے اپوزیشن کی جانب سے ای وی ایم میں گڑبڑ کرنے کی شکایتیں بڑے پیمانے پر کی جارہی ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر ووٹنگ کے دوران کوئی بھی بٹن دبانے پر بی جے پی کو ووٹ جانے کی متعدد شکایتیں موصول ہوچکی ہیں۔ عوام سوال کررہے تھے کہ ای وی ایم میں گڑبڑی ہوئی ہے تو کوئی بھی بٹن دبانے پر ووٹ صرف بی جے پی کو ہی کیوں جاتا ہے ؟ کسی بھی مشین سے گڑبڑی ہونے کی صورت میں دوسری پارٹی کو ووٹ کیوں نہیں جاتا ؟