لکھنؤ،28/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مغربی اتر پردیش کے سنبھل میں بچہ چرانے کی کوشش کرنے کی افواہ پھیلنے کے بعد ایک شخص کو بھیڑ کے ذریعہ پیٹ کر مارا ڈالا گیا ہے اور اس کے بھائی کو زخمی کر دیا گیا ہے۔اسی طرح قومی دارالحکومت سے ملحقہ غازی آباد میں ہوئے ایک اور واقعہ میں ایک بزرگ خاتون کو بچہ چوری کے الزام میں بری طرح پیٹا گیا، جس وقت وہ اپنے پوتے کے ساتھ بازار گئی تھی۔سنبھل میں دو بھائی اپنے بیمار بھتیجے کو ایک ڈاکٹر کے پاس لے جا رہے تھے اس وقت کچھ لوگوں نے ان کے پاس آ کر ان پر بچے کو اغوا کرنے کا الزام لگایا۔ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں بھائی زمین پر گرے ہوئے ہیں اور ان کو مارا جا رہا ہے۔وہ بھیڑ سے بے گناہ ہونے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن لاٹھیوں اور لوہے کے سریوں سے لیس ہجوم نے وحشیانہ طریقے سے ان کی پٹائی کرنا جاری رکھا۔مغربی اترپردیش کے دیہی علاقوں میں لوگ بچہ چوری کی افواہوں پر فوری یقین کر لیا کرتے ہیں، اور پولیس کے مطابق صرف بلند شہر ضلع سے ہی گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم از کم 12 ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں ہجوم نے لوگوں پر بچے اغوا کرنے کے الزام میں حملہ کیا ہے۔اترپردیش پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام معاملات میں کارروائی کر رہے ہیں تاکہ افواہوں پر روک لگ سکے اور ان کی وجہ سے لوگوں پر حملہ نہ کیا جائے۔سینئر پولیس افسر پی وی راما سوامی نے کہاکہ گزشتہ چند دنوں میں کچھ اضلاع میں بچہ چوری کے الزام میں لوگوں کو بھیڑ کے ذریعہ مارا پیٹا گیا ہے۔ہم نے واقعات کا تجزیہ کیا بچہ چوری کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔یہ غیر سماجی عناصر کی طرف سے پھیلائی گئی افواہیں تھیں۔اب تک 44 لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں۔سوشل میڈیا خاص طور سے وہاٹس اپ پر شیئر کی جانے والی بچہ چوری کی افواہوں کی وجہ سے کئی بار معصوم لوگوں پر حملہ کئے جانے کی واردات ہو چکی ہیں۔ایسے واقعات ملک بھر میں ہوتے رہے ہیں۔گزشتہ سال جولائی میں کرناٹک کے بیدر میں وہاٹس اپ پر پھیلی بچہ چوری کی افواہ کی وجہ سے 32 سالہ ایک سافٹ ویئر انجینئر کو پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا اور تین دیگر لوگ جن میں سے ایک قطر کا شہری تھاوہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔پولیس کے مطابق بھیڑ کا حملہ اس وقت شروع ہوا، جب قطر کے شہری کو بچوں کو چاکلیٹ بانٹتے دیکھا گیا۔علاقے میں بچوں کو اغوا کئے جانے کی افواہیں پھیل ہی رہی تھیں کہ اسی وقت چاکلیٹ بانٹتے ہوئے شخص کو دیکھا گیا تو پاس ہی کے گاؤں کے باشندوں نے وہاٹس اپ گروپ پر میسج بھیجا اور اس کے بعد حملہ ہو گیا تھا۔