ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر پردیش: نمک روٹی کھاتے بچوں کا ویڈیو شوٹ کرنے والے، رپورٹر پر کیس کے خلاف اترے صحافی 

اتر پردیش: نمک روٹی کھاتے بچوں کا ویڈیو شوٹ کرنے والے، رپورٹر پر کیس کے خلاف اترے صحافی 

Tue, 03 Sep 2019 19:09:58    S.O. News Service

لکھنؤ،03 /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے مرزا پورمیں کلیکٹریٹ آفس میں منگل کو 100 سے زیادہ صحافیوں نے احتجاج کیاکیونکہ پیر کو ریاستی حکومت نے اس صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس نے ایک سرکاری اسکول میں مڈ ڈے میل کے طور پر نمک سے روٹی کھاتے بچوں کا ویڈیو شوٹ کیا تھامشرقی اتر پردیش میں مرزاپور ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں شوٹ کئے ویڈیو میں بچوں کو مرکزی حکومت کی ہتواکانکشی یوجنا کے تحت مڈ ڈے میل کے طور پر اسکول کے کوریڈور میں بیٹھ کر نمک کے ساتھ روٹی کھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ویڈیو 22 اگست کو مقامی ہندی روزانہ اخبارات ’جن سندیش ٹائمز‘ کے ساتھ کام کرنے والے صحافی پون جیسوال نے شوٹ کیا تھا۔صحافیوں نے علاقے کے بلاکس تعلیمی افسر کی طرف سے کروائی گئی شکایت کی مذمت کی۔شکایت میں بلاک تعلیمی افسر نے پون جیسوال کے علاوہ مقامی گرام پردھان کے نمائندے پر بھی ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ پون جیسوال کو اپنا کام کرنے کے لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔’جن سندیش ٹائمز‘ کے ضلع انچارج سنجے دوبے نے کہاکہ ہم اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے رپورٹر نے اس بات کی پول کھولی کہ بچوں کو کس طرح نمک روٹی کھلائی جا رہی ہے۔جوویڈیو اس نے شوٹ کیا، وہ وائرل ہو گیا، ضلع مجسٹریٹ خود جائے وقوعہ پر گئے اور کہا کہ یہ سب سچ ہے۔کیا سچ کو اجاگر کرنا غلط ہے؟ ریاست میں مڈ ڈے میل کی نگرانی کرنے والی اترپردیش مڈ ڈے میل اتھارٹی کی ویب سائٹ پر سرکاری پرائمری اسکولوں میں بچوں کو دیے جانے والے کھانے کی تفصیلی فہرست دی گئی ہے، جس میں دالیں، چاول، روٹی اور سبزیاں ہونا چاہئے۔میل چارٹ کے مطابق کچھ خاص دنوں پر اسکولوں میں پھل اور دودھ بھی تقسیم کیا جانا چاہئے۔تین صفحے کی ایف آئی آر میں حالانکہ درج کیا گیا ہے کہ جس دن ویڈیو شوٹ کیا گیا اس دن اسکول میں صرف روٹیاں پکائی گئی تھیں۔اس میں کہا گیا ہے کہ گاؤں پردھان کے نمائندے کو صحافی کو اسکول کے احاطے میں بلانے کی جگہ سبزیوں کا بندوبست کرنا چاہئے تھی ویڈیو کے وائرل ہو جانے کے ایک دن بعد ضلع مجسٹریٹ انوراگ پٹیل نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا تھا اور اسکول کے انچارج اور گرام پنچایت کے سپروائزر کو معطل کر دیا تھا۔پیر کو اتر پردیش کے بنیادی تعلیم کے وزیر ستیش درویدی نے کہا تھا کہ وہ صحافی کے خلاف درج کیس کو دیکھیں گے۔انہوں نے کہا تھاکہ صرف بدعنوانی کو اجاگر کرنے اور سچائی کو سامنے لانے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے۔اگر ایسا ہوا ہے تو میں دیکھوں گا۔مجھے محکمہ پولیس سے رپورٹ منگوانی ہوگی اور پھر میں اپنی تفصیلات دے پاؤں گا۔ایک ویڈیو کے ذریعہ جاری کئے گئے بیان میں صحافی پون جیسوال نے اپنے خلاف درج کئے گئے کیس کوصحافت پر حملہ قرار دیا تھا۔پون جیسوال نے کہاکہ میرے خلاف کیس درج کیا گیا ہے کیونکہ سرکاری حکام سے سوال پوچھے گئے تھے۔یہ صحافت پر حملہ ہے۔خبر کی اصلیت کی تصدیق کرنے کے لئے سب کا استقبال ہے۔ ایڈٹرس گلڈ آف انڈیا نے پیر کو ریاستی حکومت کی کارروائی کی مذمت کی تھی اور کیس واپس لئے جانے کی اپیل کی تھی۔ایڈٹرس گلڈ آف انڈیا نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ صحافی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہئے یا اسے پریشان نہیں کیا جانا چاہئے۔


Share: