کاروار :25/جولائی (ایس اؤ نیوز) ریاست میں نئے گرام پنچایتوں کی عمارت تعمیر کے لئے تین برس پہلے ہی رقم منظور کی گئی تھی لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر نئی عمارات کی تعمیرتکمیل کو نہیں پہنچی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ابھی تک گرام پنچایتیں کرایہ کی عمارتوں میں یا جو چھوٹی موٹی عمارتیں انہیں دستیاب ہوئی ہیں اسی میں کام کررہی ہیں۔ اترکنڑا ضلع کی 25نئی گرام پنچایتوں کا بھی یہی حال ہے ۔حکومت نے نئی عمارت کے لئے فی کس 10لاکھ روپئے کی امدادمنظور کی ہے اس کے باوجود کسی نہ کسی وجہ سے تعمیراتی کام میں کوئی ترقی نہیں دیکھی جارہی ہے۔
اترکنڑا ضلع کے لئے 25نئی گرام پنچایتیں منظور کی گئی تھیں ، جن میں اکثر کرایے کی عمارتوں میں اپنے کام کاج انجام دے رہی ہیں۔ کچھ سرکاری عمارتوں میں تو ، چند اسکول اور آنگن واڑی کی عمارتوں میں گرام پنچایت دفاتر کی شروعات کی ہیں۔ ان میں سے 4گرام پنچایتوں کو زمینات مہیا نہیں ہونے سے عمارت دور کا چاند ہوگئی ہیں۔ سرکاری سطح پر امداد منظور ہونے کے بعد 11نئے گرام پنچایتوں کی عمارتوں کی تعمیر شروع ہوچکی ہے جب کہ بقیہ 14گرام پنچایت عمارتوں کے تعمیراتی کام شروع ہونے کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ سرسی تعلقہ مئلین اونکیری گرام پنچایت کے لئے امداد ابھی منظور نہیں ہوئی ہے۔
بھٹکل تعلقہ کے ماولی گرام پنچایت -2، ہوناور تعلقہ کی منکی اننت واڑی (منکی –بی )، منکی چتار ، سداپور تنڈاگونڈی گرام پنچایتوں کو ابھی تک زمین نہیں ملنے سے اننت واڑی اور ماولی -2گرام پنچایتیں کرایے کی عمارت میں اپنا کام کررہی ہیں۔ تنڈاگونڈی اور چتار گرام پنچایتیں دوسرے محکمہ جات کی عمارتوں میں اپنا کام جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جب کہ یلاپور کی چندگولی ، مئلنلی گرام پنچایت کی عمارتوں کے لئے کوئی کرایہ نہیں لیاجارہاہے۔
بھٹکل ماولی گرام پنچایت سمیت ضلع کے 14گرام پنچایتوں کی دفاتر کے لئے کوئی تعمیراتی کام ابھی تک شروع نہیں ہواہے۔ بقیہ مقامات پر تعمیراتی کام جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ چونکہ ریاستی کابینہ کے پنچایت راج وزیر کرشنا بائرے گوڈا ضلع کے دورے پر تشریف لارہے ہیں اس موقع پر ان مسائل کو پیش کرتے ہوئے توجہ دلانا ضروری ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔