کاروار :13؍اپریل (ایس اؤ نیوز )ریاستی انتخابات کے پیش نظر بی جےپی نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست منگل کوجاری کی اورضلع کے تمام 6 حلقوں سے بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ۔ ضلع میں بی جےپی نے نئے چہروں کے بجائے پرانے چہروں کو ہی موقع فراہم کئےجانے سے بی جےپی میں اندرونی خلفشار اور عدم اطمینانی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے
ریاست میں 10مئی کو اسمبلی کے لئے ووٹنگ ہوگی ۔ کانگریس نے سب سے پہلے اپنی پہلی اور دوسری لسٹ جاری کرچکی ہے۔ جے ڈی ایس بھی اپنی پہلی فہرست کا اعلان کردیا ہے۔ ادھر برسر اقتدار بی جےپی نے جائزہ ، سروے لے کر دیکھ دکھلا کر 189امیدواروں پر مشتمل اپنی پہلی لسٹ منگل کو جاری کی۔ ضلع سے حالیہ ارکان اسمبلی کاروار سے روپالی نائک، بھٹکل سے سنیل نائک، کمٹہ سے دنیکر شٹی ، سرسی سے وشویشور ہیگڈے کاگیری ، یلاپور سے شیورام ہیبار کو میدان میں اتاراہے تو ہلیال سے سابق رکن اسمبلی سنیل ہیگڈے کو ٹکٹ دیاہے۔
لیکن جیسے ہی بی جےپی نے اپنی پہلی لسٹ جاری کی اور ضلع کے6حلقوں کے ناموں کا اعلان ہوتے ہی ٹکٹ کے لئے کوشاں رہے افراد نے عدم اطمینان کا اظہار کرتےہوئے ناراض نظر آرہے ہیں۔ کمٹہ حلقہ سے اس مرتبہ یقینی طورپر نئے چہرے کی امید کی جارہی تھی ،کیونکہ حالیہ رکن اسمبلی دنیکر شٹی کےخلاف بڑےپیمانے پر بے اطمینانی کی کیفیت تھی ۔ لیکن پارٹی نے دنیکر شٹی کو ہی موقع فراہم کئےجانے سے ٹکٹ کےلئے کوشش کرنے والے لیڈران سخت مایوس ہوگئے ہیں۔
بھٹکل حلقہ میں بھی اس مرتبہ مخالف ہوا دیکھی جارہی تھی ۔ دیگر وجوہات کے چلتے رکن اسمبلی سنیل نائک کو ٹکٹ نہیں دینےکی افواہیں گردش میں تھیں۔ اسی دوران ٹکٹ کےلئے ایشور نائک ،گوند نائک سمیت کئی ایک نے بڑی محنت کی تھی ، آخر کار سنیل نائک کو ہی ٹکٹ دئیےجانے سے یہاں بھی اندرونی سطح پر بڑی بے اطمینانی کا اظہار ہورہاہے۔ کاروار میں بھی روپالی نائک کو بدلنے کی بات کہی جارہی تھی چند لیڈران نے کھلے عام رکن اسمبلی کےخلاف بے اطمینانی کا اظہار بھی کیاتھا۔ اس کے باوجود روپالی نائک کو ہی ٹکٹ دئیے جانے سے لیڈران کی آنکھیں لال ہوگئی ہیں۔ جہاں سرسی کا تعلق ہے 6مرتبہ کے رکن اسمبلی وشویشورہیگڈے کاگیری کو آخر دنوں میں بدلنے کی باتیں ہو رہی تھیں لیکن پارٹی نے کاگیری پر ہی اعتماد جتاتےہوئے انہیں موقع دیا توہے مگر جنہوں نےکوشش کی تھی وہ مایوسی اور ناراضگی کااظہار کررہےہیں۔ یلاپور میں شیورام ہبیار کو دوبارہ اکھاڑے میں اتارے جانے سے ان کے پرانے مخالفین اور لیڈران میں بھی بے اطمینانی کی کیفیت پائے جانےکی خبریں ہیں۔ ایک ہلیال ہی ہے جہاں سنیل ہیگڈے کولےکر کسی نے بھی اف تک نہیں کہاہے۔
مانا جارہاتھا کہ ضلع میں اس مرتبہ گجرات ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے نئے چہروں کو موقع دیاجائےگااور لیڈران بھی پر امید تھے کہ انہیں اس مرتبہ موقع ملے گا۔ لیکن بی جےپی نے کرناٹک میں اپنے پرانے اسٹائل کو ہی برقرار رکھتےہوئے پرانے چہروں کو میدان میں اتارنے سے ثابت ہوگیا کہ کانگریس اور بی جےپی میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہونے کا لیڈران نے خیال ظاہر کیا ہے۔
ضلع میں تجربہ نہیں ہوگا: پارٹی لیڈران نے ساحلی پٹی کے مضبوط قلعے صرف اُڈپی اور منگلورو میں چند حلقوں سے نئے چہروں کو آزمانے کا فیصلہ کرتےہوئے انہیں موقع دیاہے۔ لیکن اترکنڑا ضلع میں نئے چہروں کو موقع دینے سےپارٹی کو نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر ہونے پر اپنی پرانی پالیسی کو باقی رکھتےہوئے پرانے چہروں پر ہی اعتماد کیا ہے۔ اگر نئےچہروں کو موقع فراہم کرنےکا تجربہ کیاجاتاتو کانگریس کو فائدہ ہونےکے امکانات نظر آرہے تھے اسی لئے خطرہ کو درکنار کرتےہوئے پرانے چہروں کو ہی میدان میں اتارا گیا ہے۔
نتیجہ الٹاہونے کا خطرہ ؟:ضلع بھر میں جنہوں نے بھی بی جےپی سے ٹکٹ کے لئے جان توڑ کوششیں کی تھیں ٹکٹ تو نہیں ملا۔ ٹکٹ سےمحروم لیڈران عین ووٹنگ کے موقع پر الٹی چال چلنے کا خدشہ ظاہرکیاجارہاہے۔ کیونکہ سخت کوششوں کے بعد بھی ٹکٹ نہیں ملنے سے بڑی مایوسی ہوئی ہے اور اپنی مایوسی کو خوشی میں بدلنےکےلئے پارٹی امیدوار کو ہی میدان سے باہرکرنے کا دل ہی دل میں طئے کئے ہوئےہیں۔ یہ بھی کہاجارہاہےکہ وہ پارٹی کےاندر رہتےہوئے امیدوار کے خلاف کام کرنےکے آثارہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ پارٹی اپنے مایوس اور ناراض لیڈران کو کیسے مطمئن کرتی ہےاسی پر نتائج کا انحصار ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔