ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اترکنڑا میں 459غیرقانونی مذہبی عمارات کی نشان دہی : ضلع انتظامیہ کی طرف سے عدالت میں افی ڈیوٹ داخل

اترکنڑا میں 459غیرقانونی مذہبی عمارات کی نشان دہی : ضلع انتظامیہ کی طرف سے عدالت میں افی ڈیوٹ داخل

Wed, 15 Sep 2021 19:55:54    S.O. News Service

کاروار: 15؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) اترکنڑا ضلع میں عوامی سطح پر مشکلات پیدا کرنےو الے غیرقانونی تعمیر شدہ459عبادت گاہوں کی ضلعی انتظامیہ نے نشان دہی کی ہے۔ ضلع ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں جائزہ کے لئےکمیٹی کےسامنے پیش کرکے جائزہ لینے کے بعد  اگلا اقدام کیاجائے گااور مکمل قانون کی خلاف ورزی کرتےہوئے عبادت گاہیں تعمیر کی گئی ہیں تو ان کا انہدام  مجبوری ہوگی۔

مذہب کے نام پر غیر قانونی طورپر مذہبی مقامات کی تعمیر کرنا بھگوان کی بے عزتی کے برابر ہے، عوام کو تکلیف دینے والے مندر، مسجد اور چرچ کو نکال باہر کرنے کے متعلق 2009میں عدالت اعظمیٰ نے فیصلہ سنایاتھا۔ حکم کے مطابق ننجن گوڈ کی مہادیوما مندر انہدام کا معاملہ گرما گرم موضوع بحث بنا ہواہے۔ یہ معاملہ مذہبی جذبات کو بھڑکانےکے علاوہ مختلف رخ اختیار کرگیا ہے۔ اسی طرح اترکنڑا ضلع انتظامیہ نےبھی غیرقانونی طورپر تعمیرشدہ 459مذہبی مقامات کی نشان دہی کرتےہوئے عدالت میں افی ڈیوٹ داخل کرتےہوئے کہاہے کہ مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔

 اترکنڑا ضلع میں کل 1953مذہبی مقامات ہیں۔ قانون کی پاسداری کرتےہوئے تعمیر کئے گئے مقامات کی تعداد 1514ہے اور غیر قانونی طورپر تعمیر کئے گئے مذہبی مقامات کی تعداد 459ہے۔ ڈانڈیلی میں 137، کمٹہ میں 6،ہوناور میں 6، بھٹکل میں 1، سرسی تعلقہ میں 75، سداپور تعلقہ میں 29اور یلاپور تعلقہ میں 205غیر قانونی مذہبی مقامات کی نشان دہی کی گئی ہے۔

عدالت اعظمی نے کہا ہےکہ عوامی راستوں ، کھیل کے میدان  اورسرکاری زمینات کا اتی کرم کرتےہوئے مذہبی مقامات کی تعمیر کی گئی ہے تو ان مقامات کو منہدم کیاجائے۔ عوامی مقامات ، مذہبی مقامات میں منتقل ہونے  ، ٹرافک جام کے ساتھ عوامی چہل پہل میں دقت ہونے، پیدل راستے ، سیر و تفریح کےمقامات پر مذہب کے نام پر مندر، مسجد اور چرچ کی تعمیر ہوئے ہیں تو وہ سرکاری زمین کو اتی کرم کرنے کے برابر ہے۔ سرکاری اصولوں کی خلاف ورزی کرتےہوئے مذہبی مقامات کی تعمیر ہوئی ہے تو متعلقہ علاقے کے عوام کو اعتماد میں لے کر افسران عمارات کومنہدم کرنے کے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا۔ اب ضلع انتظامیہ کے اگلے اقدام تجسس کا باعث بنےہوئے ہیں۔

عدالت کے فیصلےکا احترام اور نفاذ ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے۔ جو مقامات مکمل قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کئے گئے ہیں کیا ضلعی انتظامیہ انہیں منہدم کرے گی دیکھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں اپر ڈی سی کرشنا مورتی ایچ کے کا کہنا ہےکہ ضلع انتظامیہ نے 459غیرقانونی مذہبی عمارات کی نشان دہی کرتےہوئے عدالت کو افی ڈیوٹ سونپی ہے۔ یہ سبھی مقامات 2009سے پہلے تعمیر شدہ ہیں۔ ضلع ڈی سی کی صدارت میں میٹنگ کرتے ہوئے مکمل جائزہ لے کر سکرم کے لئے جہاں موقع نہیں ہے وہاں مرحلہ وار انہدامی کارروائی کو انجام دینے کی بات کہی۔


Share: