نئی دہلی ،15جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کے چھتیس گڑھ انچارج پی ایل پنیا نے آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اجیت جوگی کے پھر سے کانگریس کے ساتھ آنے کی قیاس آرائی کو سرے سے مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ جوگی کے لیے پارٹی کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں۔
مایاوتی کے اترپردیش کے وزیراعلیٰ رہنے کے دوران ایک وقت ان بھروسے مندافسر رہے پنیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ جوگی اور بی ایس پی کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہو رہا ہے، بلکہ یہ افواہ پھیلائی گئی ہے کیونکہ جوگی اور بی جے پی افواہ پھیلانے میں ماسٹر ہے۔پنیا نے کہاکہ جھیرم گھاٹی نکسلی حملے میں چھتیس گڑھ کی ہماری پور ی اعلی قیادت چلی گئی۔اس معاملے پرجوگی پر انگولی اٹھی اور یہ بات عوامی سطح پر ہے۔لہٰذا ان کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ان کے لئے کانگریس کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔پنیا کا یہ بیان اس معنی میں اہم ہے کہ حالیہ دنوں میں سیاسی گلیاروں اور میڈیا کے ایک حصے میں یہ بحث رہی ہے کہ انتخابات سے پہلے کانگریس جوگی کو ساتھ لے سکتی ہے تاکہ اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی مخالف ووٹوں کا بٹوارہ نہ ہو۔
کانگریس کے چھتیس گڑھ انچارج نے بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مایاوتی کی پارٹی کے ساتھ آنے سے ریاست میں کانگریس کی پوزیشن اور مضبوط ہو جائے گی اور تال میل کے لئے مناسب سطح پر بات چیت ضرور ہوگی درصال آئندہ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی کو لے کر کانگریس صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کو مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان سے منسلک سینئر لیڈروں کی میٹنگ کی تھی جس میں ان تینوں ریاستوں میں بی ایس پی کے ساتھ بات اٹھی تھی۔پنیا نے کہاکہ کانگریس صدر نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ بی جے پی مخالف ووٹوں کا بٹوارہ روکنا ہوگا اور اس کے لئے ذہن رکھنے والی پارٹیوں کو ساتھ لے آئے گا. بی ایس پی جیسے خیالات والی پارٹی ہے۔اگر وہ ساتھ آتی ہے تو ہم یقینی طور پر اور مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ چھتیس گڑھ کے کچھ علاقوں میں بی ایس پی کا اثر ہے۔وہ جیت نہیں سکتی لیکن ہار جیت کو متاثر کر سکتی ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بی ایس پی کی قیادت کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے تو انہوں نے کہاکہ اب بات چیت نہیں ہوئی ہے، لیکن آگے ضرور ہوگی اور مناسب سطح پر ہوگی۔غور طلب ہے کہ کانگریس جوگی کی پارٹی 'عوام کانگریس چھتیس گڑھ کے نقصان پہنچانے کا خدشہ اور ریاست میں 12فیصد دلت ووٹروں کی بات کو ذہن میں رکھ کر بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کی کوشش میں ہے پچھلے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے تمام 90 اسمبلی سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا۔اس میں 4.3فیصد ووٹ اور ایک سیٹ حاصل ہوئی تھی حا ل ہی میں دہلی میں جوگی کی بی ایس پی قیادت سے ملاقات سے متعلق خبروں پر پنیا نے کہاکہ بی جے پی اور جوگی افواہ پھیلانے میں ماسٹر ہیں۔جوگی اور بی ایس پی کے درمیان ایسا کوئی اتحاد نہیں ہو رہا ہے۔