بنگلورو،9؍ دسمبر (ایس او نیوز)ریاست میں کووڈ19معاملات میں اضافہ اور کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کے خوف کی وجہ سے حال ہی میں شروع ہوئے اسکولوں کو دوبارہ بند کرنے یا آن لائن کلاسس شروع کرنے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔اس سلسلہ میں ماہرین تعلیم نے بتایا کہ وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے بیان جاری کیا ہے کہ اگر اومیکرون یا کووڈ معاملات میں اضافہ ہوا تو اسکول بند کرنے کا فیصلہ لیا جائے گا لیکن یہ غیر ضروری ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ طویل عرصہ کے بعد اسکول کالجوں کا دوبارہ آغاز ہوا ہے اورکل ایک کروڑ طلبہ میں سے صرف130طلبہ کو ہی کووڈ لاحق ہوا ہے اس لئے غیر ضروری طور پر طلبہ کوالجھن میں ڈالنا نہیں چاہئے۔ ماہرین تعلیم نے مشورہ دیا ہے کہ احتیاطی اقدامات کو ترجیح دیتے ہوئے اومیکرون کے تعلق سے مزید جانچ کے بعد کوئی فیصلہ لیا جائے۔ اگر معاملات میں اضافہ بھی ہو تو شفٹ طرز پر اسکول چلائے جاسکتے ہیں اگر ضرور ت پڑی تو جس اسکول میں زیادہ معاملات درج ہوں گے اسے بند کرنے پر غور کیا جائے۔
منی پال گروپ آف اسپتال کے صدر ڈاکٹر سدرشن بلال نے بتایا کہ اومیکرون کے تعلق سے ابھی واضح جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے جاری رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے اسکول کالج چلائے جاسکتے ہیں۔تاہم والدین اور اسکول اساتذہ وعملہ کو ویکسین لازمی قرار دی جائے۔ اس سلسلہ میں وانی ولاس اسپتال کے ڈاکٹر ملیش نے کہا کہ اومیکرون کے تعلق سے طلبہ اور والدین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف احتیاطی اقدامات پر عمل کیا جائے اور اسکول کالجوں کو بند کرنے یا نہ کرنے کے تعلق سے حکومت سے اور کووڈ تکنیکی صلاح کمیٹی فیصلہ لے۔
روپسا کے صدرلوکیش تالی کٹی نے بتایا کہ اومیکرون وائرس کا پتہ لگنے والے اضلاع میں 8تا10دن چھٹی کااعلان کرکے والدین اور بچوں میں اعتماد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر تعلیم ناگیش کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔