بنگلورو،26؍فروری (ایس او نیوز) چند نئی اسکیموں کو شامل کرتے ہوئے چند ترمیمات کے بعد بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کا رواں سال کا بجٹ 10,691؍ کروڑ سے بڑھ کر 12,574؍ کروڑ روپئے ہوچکا ہے۔ بی بی ایم پی آمدنیات میں مزید توقع کرتے ہوئے تمام جائیدادوں کو ’’اے ’’ کھاتے میں تبدیل کرکے اس سے حاصل ہونے والی فیس کی رقم سے انتظامیہ چلایا جائے گا۔ لیکن یہ کوئی حتمی نہیں ہے۔بی بی ایم پی کی آمدنیات کو مد نظر رکھ کر بجٹ پیش کرنے کے لئے محکمہ شہری ترقیات نے بی بی ایم پی کو مشورہ دیا ہے۔
ترمیم شدہ بجٹ کو سنجیدگی سے لے کر حکومت کب منظوری دے گی،اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔بجٹ میں جائیداد ٹیکس سے جہاں 3500؍ کروڑ روپئے وصول کرنے کی توقع کا اعلان کیا گیا تھا ، اس میں اضافہ کرتے ہوئے 4000؍ کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔اس سے بی بی ایم پی کو افزود 500؍ کروڑ روپئے کا ٹیکس وصول ہونے کی توقع کی گئی ہے۔ عمارتوں کے لائسنس فیس کے طو رپر 250؍ کروڑ سے بڑھا کر 500؍ کروڑ روپئے، کھاتوں کی تبدیلی فیس سے 100؍ کروڑ سے بڑھا کر 200؍ کروڑ، کامپونڈنگ فیس 200؍ کروڑ سے بڑھا کر 300؍ کروڑ، سکیورٹی ڈپازٹ 100؍ کروڑ سے بڑھا کر 200؍ کروڑ کی توقع کی گئی ہے۔اسی طرح جائیداد ٹیکس سے مزید 500؍ کروڑ روپئے وصول کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہیلتھ ٹیکس کے طور پر 600؍ کروڑ روپئے ،لائبریری ٹیکس کے طو رپر بجٹ میں 210؍ کروڑ کا جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا، اس میں اضافہ کرتے ہوئے 240؍ کروڑ روپئے وصول ہونے کی توقع کی گئی ہے۔ چند مخصوص اسمبلی حلقوں کو افزود فنڈ مختص کرنے کارپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) نے الزام لگایا ہے۔لیکن میئر گنگا مبیکے ملیکارجن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بی بی ایم پی کونسل اجلاس کو بتایا کہ تمام کارپوریٹروں کے صلاح ومشورے اور تجاویز کے بعد ہی بجٹ تیار کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 15؍ کروڑ روپئے مختص کئے جئے نگر اسمبلی حلقہ کے لئے افزود 10؍ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ بی ٹی ایم لے آؤٹ حلقہ کے لئے جہاں 10؍ کروڑ روپئے مقرر کئے گئے تھے اب اس رقم کے ساتھ مزید 15؍ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ میئر کی نمائندگی والے جئے نگر وارڈ کے مادھون پارک اور اطراف واکناف پارکوں کی ترقی کے لئے 5؍ کروڑ ، کرشنا راؤ پارک کی ترقی کے لئے 5؍ کروڑ، جئے نگر کمرشیل کامپلکس کی تجدید کے لئے 10؍ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ میئر کے میڈیکل ایڈ فنڈ کی رقم 4؍ کروڑ سے بڑھا کر 10؍ کروڑ روپئے کردی گئی ہے۔ مزید برآں ہر کارپوریٹر کے طبی فنڈ میں اضافہ کرتے ہوئے 6؍ لاکھ روپئے کردئے گئے ہیں۔اس کے لئے جملہ 59؍ کروڑ روپئے مختص رکھنے کے لئے اس سے قبل بجٹ میں جو اعلان کیا گیا تھا، اس میں اضافہ کرتے ہوئے طبی فنڈ کے طو رپر 118؍ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔میڈیا سنٹر کے لئے مختص ایک کروڑ کی رقم بڑھا کر 3؍ کروڑ روپئے کردی گئی ہے۔
اخباری نمائندوں کے لئے طبی فنڈ کے لئے جہاں 50؍ لاکھ روپئے مختص کئے گئے تھے ،اس میں بھی اضافہ کرکے ایک کروڑ روپئے کردئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی نئے وارڈوں میں ترقیاتی کام کے لئے مختص 46؍ کروڑ روپیوں کے فنڈ میں اضافہ کرتے ہوئے 525؍ کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ ٹیکس اینڈ فائنانس اسٹانڈنگ کمیٹی کی چیرپرسن ہیما لتا گوپا لیا کی نمائندگی والے وشوبھاوتی نگر وارڈ کے لئے بھی افزود فنڈ مختص کیا گیا ہے۔کانگریس اور جنتادل سکیولر (جے ڈی ایس) اراکین اسمبلی کے حلقوں میں داسرہلی حلقہ کے لئے 20؍ کروڑ سے بڑھا کر 70؍ کروڑ ،ہبال اسمبلی حلقہ کے لئے 20؍ کروڑ سے بڑھا کر 30؍ کروڑ ، کے آر پورم اسمبلی حلقہ کے لئے 50؍ کروڑ، جئے نگر اور بی ٹی ایم اسمبلی حلقوں کے لئے فی وارڈ 40؍ کروڑ، چامراج پیٹ حلقہ کے لئے 25؍ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔بی جے پی اراکین اسمبلی نمائندگی والے پدمانابھ نگر، راجا جی نگر، ملیشورم، سی وی رامن نگر، بسون گڈی، چک پیٹ، بنگلور ساؤتھ حلقوں کے لئے 5؍ کروڑ سے بڑھا کر 10ھ کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔مہالکشمی لے آؤٹ اسمبلی حلقہ کے لئے 20؍ کروڑ کا افزود فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ میئر نے کہا کہ ریاستی حکومت بی بی ایم پی بجٹ کے لئے جس حد تک منظوری دے گی ،بی بی ایم پی اس پر پابند رہے گی۔