ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / افغانستان میں طالبان کی طرف سے پھر عام معافی کا اعلان، خواتین کوحکومت میں شمولیت کی دعوت

افغانستان میں طالبان کی طرف سے پھر عام معافی کا اعلان، خواتین کوحکومت میں شمولیت کی دعوت

Wed, 18 Aug 2021 16:49:30    S.O. News Service

کابل، 18؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) افغانستان پر مکمل قبضے  کے بعد طالبان نے منگل کو کابل میں پہلی پریس کانفرنس سے  خطاب کرتے ہوئے نہ صرف  عالمی برادری کے تمام اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنی حکومت کا خاکہ بھی پیش کردیا۔  اس سے قبل طالبان  نے کابل کے بعد پورے ملک کیلئے بھی عام معافی کا اعلان کیا اور  سرکاری ملازمین سے کام پر لوٹ آنے کی اپیل کی۔ انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ان سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ خواتین کو حقوق سےمحروم کردینے کے عالمی برادری کے  اندیشوں  کے برخلاف  طالبان  نے انہیں حکومت  میں شمولیت کی دعوت دی۔ 

منگل کی شام  کابل میں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تمام دشمنیوں  کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے  کہا کہ ’’امارت اسلامی کسی سے انتقام نہیں لےگی۔‘‘ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ طالبان افغانستان کو مزید میدان جنگ نہیں بننے دینا چاہتے، ذبیح اللہ مجاہد نےکہا  کہ’’ہم  نے ان  تمام افراد کو بھی کو معاف کر دیا ہے جنہوں  نے ہمارے خلاف جنگیں لڑیں۔ تمام  دشمنیاں ختم ہو گئی ہیں۔  ہم داخلی اور  بیرونی کسی بھی قسم کا  دشمن نہیں چاہتے۔‘‘ واضح رہے کہ افغانستان پر مکمل قبضے کے بعد طالبان کی یہ پہلی پریس کانفرنس تھی جس میں انہوں نے اپنی مجوزہ حکومت کا خاکہ بھی پیش کردیا۔ 

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے اقتدار میں  خواتین کے حقوق سے متعلق عالمی اندیشوں کو دور کرتے ہوئے کہا  کہ انہیں  شرعی نظام کے تحت تمام حقوق حاصل ہوں گے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’ہم شرعی نظام کے تحت خواتین کے حقوق کا عہد کرتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں گی،کوئی تفریق نہیں ہوگی۔‘‘

پریس کانفرنس میں طالبان نے یہ بھی واضح  کیا کہ ان کی حکومت میں میڈیا کو آزادی حاصل ہوگی تاہم اس بات پر زور دیاگیا کہ صحافی افغانستان کے مفادات کےخلاف کام نہ کریں۔ طالبان  کےترجمان  نے ذرائع ابلاغ کےنمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا  کہ’ ’میں میڈیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے ثقافتی ڈھانچے میں رہتے ہوئے میڈیا کی آزادی کے تعلق سے پرعزم ہیں۔ میڈیا آزادی کے ساتھ غیر جانبدار  انہ طریقے سے کام جاری رکھ سکتاہے۔ ‘‘    انہوں   نے یہ واضح بھی کردیا کہ ’’ہمارے لئے اسلام  اہم ہے، اسلئے  میڈیا کو اپنے پروگراموں میں  اسلامی اصولوں کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔‘‘

اقوام عالم کے اندیشوں کو دور کرتے ہوئے   ذبیح اللہ مجاہد  نے خود ہی کہا کہ ۲۰؍ سال پہلے  کے طالبان اور موجودہ طالبان  میں بہت فرق ہے۔ غیر ملکی طاقتوں  کے ساتھ کام کرنے والے افغان مترجمین اور ٹھیکیداروں   کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ  نےکہا کہ’’کسی سے انتقام نہیں لیا جائےگا۔نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔کوئی  اُن سے نہیں پوچھے گا کہ وہ کس کیلئے  کام کرتے رہے ہیں۔ وہ محفوظ ہیں۔‘‘


Share: