بنگلورو،5/ مارچ (ایس او نیوز) ملک کی آئین کو بدلنے کی باتیں ہر جگہ سنائی دے رہی ہیں، لیکن آئین کو تبدیل کرنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔ وزیراعلیٰ یڈیورپا نے بدھ کو اسمبلی میں یہ بات کہی۔
آئین ہند پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین ہند میں تبدیلی کی باتیں بسا اوقات ہورہی ہیں، لیکن یہ سب بے بنیاد دعوے ہیں۔ کوئی بھی آئین کو بدل نہیں سکتا۔ ہمارا آئین انتہائی بامعنیٰ اور قابل عمل ہے، جس کو مٹانا یا بدلنا ممکن نہیں۔ اقتدار میں رہنے والے لوگ خدا نہیں ہیں۔ سب بندے ہی ہیں، عجب بات یہ ہے کہ آزادی سے قبل ہم نے ملک کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی تھی۔ وطن سے محبت سب سے اہم ہے۔ آزادی ملنے کے کئی سالوں بعد بھی کسان کی ترقی ممکن نہیں ہوسکی۔ دلتوں کی حالت دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہمیں آزادی ملی ہے؟ ہم ذراسی محنت کریں تو پریشانیاں دور ہوسکتی ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنے احساسات کو بدلنا ہوگا۔ ملک میں خواتین کے لئے رات کے اوقات میں محفوظ طور پر چلنے پھرنے کا ماحول نہیں بنا ہے۔قتل، ڈاکہ ذنی، بدعنوانی بڑھ رہی ہے۔ افسروں کے تبادلے ہی بدعنوانی کا اہم سبب ہے۔ 63فیصد افسران کے رشوت لینے کا کانگریس ایچ کے پاٹل کا بیان درست ہے۔ ایسے نظام کو درست کرنا ہم جیسے اراکین قانون سازیہ کا فرض ہے، ہمیں اس بارے میں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔
یڈیورپار نے کہا کہ آئین کے ذریعہ ہر ایک کی زندگی روشن ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر نے جس قدر محنت سے ہمارا آئین تیار کیا، یہ انہیں کی جرأت مندی تھی کوئی اور ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے ممالک سے موازنہ کیا جائے تو ہمارا آئین کئی گنا بلند نظر آتا ہے۔ آئین ہند پر دوسری ریاستوں میں بحث نہیں ہوئی ہے۔ ہماری کوششیں کامیاب ہوئی ہیں۔ ہمیں پورے ملک کے لئے ایک مثال قائم کرتے ہوئے آئین پر روشنی ڈالنی ہوگی۔ ہم تمام مل کر باہمی تعاون سے بات کریں تو ہی اصل حقیقت سامنے آسکتی ہے۔ چند ممالک میں آئین کے خلاف تحریکات درج کی گئی ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات میں رکاوٹیں پید ا ہوئی۔ ماضی میں ہوئے انتخابات میں وہاں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کون جیتے ہیں، آخر میں بتایا گیا کہ جارج بش جیتے تھے۔ ایسے اہم ملک میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں آئین مضبوط ہے۔ ہمارا ملک کا آئین دوسرے ملکوں سے بہت بلند ہے۔ داخلی مسائل سے نکلنے کا راستہ آئین نے بتایا ہے۔ لیکن کوئی بھی اپنے آپ کو آئین سے بلند قرار نہیں دے سکتا۔ یہ بات بھی سچ ہے۔