ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امت شاہ کے بیان پر رجنی کانت کاحملہ،کہا،ہندی مسلط کرنا لوگوں کو قبول نہیں 

امت شاہ کے بیان پر رجنی کانت کاحملہ،کہا،ہندی مسلط کرنا لوگوں کو قبول نہیں 

Wed, 18 Sep 2019 19:52:06    S.O. News Service

چنئی،18/ستمبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ’ایک ملک، ایک زبان‘ والے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کے خلاف جنوبی ہند میں مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ڈی ایم لیڈر ایم کے اسٹالن، مککل نیدھی مییم لیڈر کمل ہاسن کے بعد اب اداکار رجنی کانت نے بھی کہا ہے کہ ہندی مسلط کرنا لوگوں کو قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندی کو مسلط کرنے کی ہر کوشش کا صرف جنوبی ریاست ہی نہیں بلکہ شمالی ہند میں بھی بہت سے لوگ مخالفت کریں گے۔انہوں نے چنئی میں کہاکہ صرف ہندوستان ہی نہیں، بلکہ کسی بھی ملک کے لئے ایک مشترکہ زبان ہونا اس کے اتحاد اور ترقی کے لئے اچھا ہوتا،بدقسمتی، ہمارے ملک میں ایک مشترکہ زبان نہیں ہوسکتی، لہذا آپ  کوئی زبان تھوپ نہیں سکتے۔انہوں نے کہاکہ خاص طور پر، اگر آپ ہندی تھوپتے ہیں تو تمل ناڈو ہی نہیں، بلکہ کوئی بھی جنوبی ریاست اسے قبول نہیں کرے گی۔شمالی ہندوستان میں بھی کئی ریاستیں اسے قبول نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا تھاکہ ہندوستان مختلف زبانوں کا ملک ہے اور ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے،مگر پورے ملک کی ایک زبان ہونا انتہائی ضروری ہے، جو دنیا میں ہندوستان کی شناخت بنے۔آج ملک کو اتحاد کی ڈور میں باندھنے کا کام اگر کوئی ایک زبان کر سکتی ہے، تو وہ سب سے زیادہ بولی جانے والی انگریزی زبان ہی ہے۔ان کے اس بیان کی کرناٹک، کیرالہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو میں خوب تنقید ہو رہی ہے۔گزشتہ دنوں کرناٹک کے وزیر اعلی اور بی جے پی لیڈر بی ایس یدی یورپا نے بھی کہا کہ کناڈا سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا تھاکہ ہمارے ملک میں تمام سرکاری زبانیں جیسی ہیں،تاہم جہاں تک کرناٹک کا سوال ہے، کناڈا اہم زبان ہے،ہم نے کبھی بھی اس کی اہمیت سے سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہم کنڑا اور ریاست کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے مصروف عمل ہیں۔


Share: