نئی دہلی ،13نومبر (آئی این ایس انڈیا ) ملک میں جوں جوں انتخابی مہم تیز ہو رہی ہے ،وہیں متنازعہ بیانات کی بھرمار بھی ہے ۔ اکھلیش یادو کا بانی پاکستان محمد علی جناح کے متعلق بیان یاپھر سلمان خورشید کا ہندوتوا کے تئیں اظہارِ خیال ہی کیوں نہ ہو ۔ اس طرح کے بیانات سے سیاست میں ابال آنا لا زمی ہے ، جس سے بھگوا ٹولے(بی جے پی) کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں ،اور پھر اپنی فطرت کا برملا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بیانات کے بعد بی جے پی ایم پی ہرناتھ یادو نے جلتی پر گھی ڈالنے کاکام کیا ہے ۔
بی جے پی ایم پی نے کہا ہے کہ ان تمام لیڈروں ،جو ہندوتوا کے تئیں مختلف الخیال ہیں،کا ڈی این اے چیک کروایا جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ڈی این اے محمود غزنوی اور اورنگ زیب سے ملتا جلتا ہے۔(خیال رہے کہ یہ بھگوا ذہنیت کی پست ذہنیت ہے کہ وہ اپنے بیانات میں اورنگ زیب عالمگیر اور ظہیر الدین بابر کو گھسیٹ لاتے ہیں، جس سے ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوتا ہے)۔بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی ہرناتھ یادو نے خود کو ہندوتو کا ٹھیکہ دار ثابت کرتے ہوئے کہاکہ اگر راشد علوی، سلمان خورشید، اکھلیش یادو اپنا ڈی این اے چیک کرائیں گے۔ ان کا ڈی این اے اورنگ زیب یا بابر سے مماثل ہوگا، ان لوگوں کے ذہنوں میں ہندوؤں کیلئے نفرت ہے۔ ہرناتھ یادو نے کہا کہ کانگریس لیڈر اور پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے میں اتفاق سے ہندو ہوں۔ ان کے خاندان میں کوئی ہندو نہیں ہے، چاہے وہ سونیا ہو، راہل ہو یا پرینکا، ان کے بچے کا نام ہندوپر نہیں ہے ۔یہ لوگ صرف ایک برادری کے ووٹ کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔