ممبئی، 26؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)مہاراشٹر میں اومیکرون کے 100سے زائد معاملے سامنے آچکے ہیں، اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے پیش نظر ریاست میں نائٹ کرفیو کا اعلان کیاگیا ہے۔ یہاں رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک پابندی رہے گی، صرف ضروری خدمات ہی جاری رہیں گی، اس کے علاوہ حکومت نے کورونا کو لے کر نئی گائیڈ لائن بھی جاری کردی ہے۔
کرسمس اورنیو ایئر کے پیش نظر مہاراشٹر میں کسی بھی طرح کے اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہیں، یہاں نائٹ کرفیو کے دوران پانچ سے زیادہ لوگوں کے بھی اجتماع پر پابندی ہوگی۔ شادیوں میں بند ہال میں100 لوگوں کی اجازت ہوگی، جبکہ کھلی جگہوں پر پچیس فیصد، یا 250 لوگ جمع ہوسکیں گے، یہی پابندی سیاسی، مذہبی تقریبات پر بھی نافذ ہوگا۔
کھیل کود کی تقریبات کےدوران پچیس فیصد لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت ہوگی، ہوٹل، ریسٹورینٹ، جم، اسپا، سنیما ہال میں پچاس فیصد ہی افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سختی کے ساتھ کہاگیا ہے کہ کورونا اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ سو روپے جرمانہ بھرنا ہوگا، ساتھ ہی پروگرام میں اصول توڑنے پر منتظمین کو پچاس ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ اطلاع پارلیمانی امور کے وزیر شیوسینا لیڈر انیل پرب نے دی۔ریاستی حکومت نے کووڈ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جو پابندیاں عائد کی ہیں اس کا اطلاق آج نصف شب سے ہو جائے گا۔وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی شرح بڑھ رہی ہے، فی الحال کچھ پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور مستقبل میں مزید پابندیوں پر غور کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر انفیکشن کو پھیلنے نہیں دینا ہے تو سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحت کے اصولوں پر ذمہ داری سے عمل کریں اور ماسک کا استعمال کریں۔وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ پابندیوں کی موجودہ نوعیت ابتدائی ہے اگر ابھی یہ پابندیاں نہیں لگائی گئیں تو مستقبل میں مزید سخت پابندیاں عائد کرنی پڑسکتی ہیں۔