بھٹکل:31؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) ضلع اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے آج جمعرات کو کاروار سے بھٹکل تشریف لاتےہوئے جالی پٹن پنچایت ممبران کے ساتھ میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں ممبران نے پنچایت کے دواہم مسائل ڈرنیج اور واٹرسپلائی کو پیش کرتےہوئے اسے حل کرے کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں ممبران نے ڈی سی سے شکایت کی جالی پنچایت کے وارڈس کی جغرافیائی طورپر مناسب تقسیم نہیں ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر نے تمام مسائل کو بغور سماعت فرماتےہوئے کہا کہ جہاں تک یوجی ڈی یعنی ڈرنیج کا مسئلہ ہے اس کا کام ابھی شروع ہونا باقی ہے جبکہ واٹرسپلائی کے متعلق جو کچھ اشکالات پیش کئے گئےہیں اُس تعلق سے وہ بنگلورو کے واٹر سپلائی مرکز سے رابطہ کریں گے اسی طرح وارڈس کی جغرافیائی تقسیم کے معاملے پر انہوں نے یقین دلایا کہ اسے الیکشن کے موقع پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
میٹنگ کے بعد بھٹکل آمد کے تعلق سے پوچھے جانے پر ڈاکٹر ہریش کمار نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ جیسے میونسپالٹی ، پنچایت وغیرہ میں نئے منتخب ممبران کی کیا کیا توقعات ہیں اور اس پر عمل درآمد کےلئے کیاکیا قانونی اصول وضوابط ہیں، اس تعلق سے بات چیت کرنے کے لئے وہ بھٹکل آئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ افسران اورعوامی نمائندے مل کر مشترکہ طورپر شہر اور گاؤ ں کی ترقی کیسے کرسکتے ہیںاس بات کو لے کر ضلع بھر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ علاقہ کے عوامی نمائندوں اور افسران کے ساتھ مشترکہ میٹنگ منعقد کی جارہی ہے۔ آج جالی پنچایت میں منعقدہ میٹنگ بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔
جالی پٹن پنچایت کے کونسلروں کی جانب سے پیش کئے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے وضاحت کی کہ کئی سارے مسائل ایسے ہیں جس کو ہرکوئی اپنے من کےمطابق حل کرنا چاہتا ہے ۔ جمہوریت میں اکثریت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، سپریم کورٹ کے مطابق اکثریت کی رائےکے مطابق دستور تبدیل کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ رائے اور مشورہ صحیح ہونا بھی ضروری ہے۔ ڈی سی نے کہا کہ مقامی انتظامیہ جیسے میونسپالٹی ، پنچایت وغیرہ کی تشکیل کا مطلب یہی ہےکہ تمام لوگوں کی آواز سنی جائے ۔ لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہر معاملے میں سپریم ہیں۔ نہیں ، بلکہ کچھ اختیارات دئیے گئےہیں وہیں اس کو مسترد کرکے نئے منصوبے بنانے کاافسران کو بھی اختیار دیا گیا ہے۔