ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اُلال : سمندر کے ساحلی کٹاؤ علاقے کے مکانات کی منتقلی زیر غور ؛متاثرین کو بھرپور معاوضہ دینے یوٹی قادر کی ہدایات

اُلال : سمندر کے ساحلی کٹاؤ علاقے کے مکانات کی منتقلی زیر غور ؛متاثرین کو بھرپور معاوضہ دینے یوٹی قادر کی ہدایات

Thu, 06 Jul 2017 17:49:32    S.O. News Service

منگلورو:6/جولائی (ایس اؤنیوز)گذشتہ 35سالوں سے سنگین مسئلہ بن کر ایک چیلنج بنے اُلال سمندر کے ساحلی کٹاؤ علاقہ کے مکانات کو منتقل کئے جانے کے متعلق غوروفکر جاری رہنے کی اطلاع کابینہ وزیر یوٹی قادر نے دی۔

اُلال ساحلی کٹاؤمسئلہ کے متعلق ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں جمعرات کو افسران اور عوام کے ساتھ منعقد ہوئی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے موصوف وزیر بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اُلال سمندر کے ساحل پر ہرسال ساحلی کٹاؤ سے مسئلہ سنگین رخ اختیار کرچکاہے ، علاقہ کے مکانات، دکانیں اور دیگر عمارات کاسروے کیا جائے، مستقبل کو نگاہ رکھتے ہوئے مکان مالک سمیت خاندان کے تمام ممبران کی کونسلنگ کرتےہوئے انہیں گھر منتقلی کے لئے ذہنی طورپر تیار کرنےکی یوٹی قادر نے افسران کو ہدایات دیں۔

اس سلسلے میں منگلورو تحصیلدار مہا دیویا نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے ایک سروے مکمل کرلیا گیا ہے ، اور ایک سروے کرنے کے بعد ساحلی کٹاؤ کے متاثرین کی فہرست تیار کی جائے گی اور مثاثرین کی باز آبادکاری کے لئے مونور اور کوناجے دیہات میں سرکاری زمین کی نشاندہی بھی کئے جانے کی جانکاری دی ۔

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کے جی جگدیش نے کہا کہ مستقبل کی خاطر سمندرکے ساحلی علاقوں کے گھروں کی منتقلی مجبوری ہے ، منتقل کردہ مکانات کی تعمیر کے لئے 3.30لاکھ روپئے امداد کے طورپر دئیے جائیں گے۔ لیکن وہاں سے منتقلی کے لئے جو تیار نہیں ہونگے اور انہیں آئندہ دنوں میں کچھ جانی و مالی نقصانات ہوتے ہیں تو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہوگی۔ اس طرح کا ایک افی ڈیوٹ لینے کی ضرورت ہونے کا خیال ظاہر کیا۔

زیادہ سے زیادہ معاوضہ ادا کریں:ساحلی کٹاؤ کی وجہ سے گھر، جائیداد وغیرہ سے نقصان زدہ متاثرین کو قانون کے بہانے کم سے کم معاوضہ ادا کئے جانے پر افسران کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیر یوٹی قادر نے کہاکہ تصور کرلیجئے کہ ان کی جگہ آپ یا آپ کے خاندان والے ہوتے تو کیا کرتے ؟ یا 10ہزار روپئے کا معاوضہ لے کر خاموش ہوجاتے ؟اتنی سی رقم لے کر کچھ کرنا ممکن ہے ؟ جیسے سوالات کی بوچھار کردی اور ہدایت جاری کی کہ کسی بھی وجہ سے متاثرین کے ساتھ بے انصانی نہ کریں ، جتنا ہوسکتاہے اس سے زیادہ معاوضہ دیں ، اور متاثرین کو چکر کاٹنے پر مجبور نہ کریں بلکہ ایک ہی وقت میں تمام کارروائی مکمل کرلے کر معاوضہ اد اکرنےکی بات کہی۔

گذشتہ سال گھر کھونے والی ریحانہ اور امسال کی متاثرہ نفیسہ کو فی کس 5ہزار روپئےبطور معاوضہ ادا کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یوٹی قاد رنے افسران سے پوچھا کہ بتائیے اس رقم سے کیا کرسکتےہیں؟اور یہ رقم بھی کافی دیر سے ادا کی گئی ہے۔ ڈی سی جگدیش نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ آفاقی حادثات کے متعلق معاوضہ ادا کرنے کے لئے مقامی تحصیلدار کو پورا اختیار ہے ، چک ، نقصان کے اندازے کے لئے ضلعی انتظامیہ کی منظوری لینا بھی ضروری نہیں ہونے کی بات کہی ۔

وزیر یوٹی قادر نے بیچوں پر ہونے والے حادثات پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ اس سلسلے میں پیشگی اقدامات کریں اور لازمی طورپر ہوم گارڈ س کوتعینات کریں، نوٹس بورڈ لگائیں، مائک کے ذریعے بھی جانکاری کو نشرکرنےکی ہدایت دی۔ اُلال بلدیہ کے صدر حسین معینو، کونسلر محمد مکچیری ، عثمان کلاپوو غیرہ نے بھی موقع کی مناسبت سے اظہارخیال کیا۔ میٹنگ میں اپر ڈی سی کمار ، منگلورو معاون کمشنر رینوکے پرساد موجود تھے۔


Share: