اُڈپی :9/اکتوبر(ایس او نیوز)اتوارکو اُڈپی کے مہاتماگاندھی میدان میں منعقدہ اُڈپی چلو پروگرام میں گجرات کے دلت لیڈر ، ایڈوکیٹ جگنیش میوانی نےجو تقریر کی، اس کے کچھ اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں
یہ ایک نئےجدوجہد کی نئی انقلابی آواز ہے ، گجرات کے دلتوں نے جس طرح جدوجہدکرتے ہوئے حکومت کو جو جھٹکا دیا ہے بالکل اسی طرح کا ایک پروگرام یہاں منعقد ہورہاہے، یہ تمام مظلوم طبقات کی صدا ہونی چاہئے ، دلت ، آدی واسی ، کسانوں کی جدوجہد ہونی چاہئے ۔ گجرات میں دلتوں نے جو کچھ کیاہے وہی تمہیں یہاں کرناہے، گجرا ت میں دلتوں، آدی واسیوں اور کسانوں کی جدوجہد متحدہ طورپر جاری ہے ، اُڈپی کو کرناٹکا کا ہندوتوا کی لیباریٹری کہا جاتاہے ، آج یہاں تم سب جمع ہیں، یہ ایک بہترین ترقی ہے ، جس طرح ناگ منڈل میں ناگ سانپ کو کھلایا جاتاہے اسی طرح مودی پورے نظام کو کھلا رہے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ یہاں تک پہنچنے ہم سب کو مل کراس کو برباد کرنا ہے ، آج ہم سب متحد ہیں، اس کی حفاظت ضروری ہے ، اگر نہیں تو دلتوں کا جینا ناممکن ہوجائے گا۔ تمہارے جانوروں کی دم تم ہی رکھ لو، ہماری زمین ہمیں لوٹانے کی بلند بانگ سطح پر کہنا ہے ۔ ہندوتوا کا ایجنڈا کیا ہے ، اس کو ہم سمجھیں ، گجرات کے 2002کے فسادات میں مسلم بھائیوں پر حملہ ہواہے ، دلتوں پر 746کیس ، اعلیٰ ذات والوں پر صرف 56 کیس ہی درج ہوئے ہیں، اسی کو دیکھ کرسمجھ جانا چاہئے۔ پورے ملک میں گجرات ماڈل زیر بحث ہے ، گجرات کے 119دیہات میں آج بھی دلت پولس کی حفاظت میں زندگی گزار رہے ہیں، 2014میں 74دلت خواتین کی عصمت دری کی گئی ، انہیں دیکھنے کے لئے نریندر مودی نہیں گئے ، 55دیہاتوں میں دلتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے ، ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ جیسے مودی کانعرہ دلتوں کی بربادی کا نعرہ ہوگیا ہے۔
اونا میں مرے ہوئے جانوروں کو نہیں اٹھایا گیا تو ہم پر حملہ ہوا، لیکن ہماری جدوجہد صرف جانوروں کی حد تک نہ ہو ، انکاؤنٹر کے ذریعے قتل کئے گئے 3نوجوانوں کے متعلق بھی جدوجہد ہونی چاہئے۔ گجرات کے اونا کی جدوجہد ہمارے تشخص اور بقا کی جدوجہد ہے ، ہزاروں لوگ اس کے ساتھ جڑ رہے ہیں، 1لاکھ سے زائد دلتوں نے حلف لیا ہے کہ ہم نہ مردہ جانوروں کو اٹھائیں گے، نہ فضلہ اٹھائیں گے ، اندرونی نالیوں میں نہیں اتریں گے ۔ اس کے بعد 15اگست کو ہونے والی ریلی میں ایک لاکھ لوگوں نے سنگھ پریوار کے خلاف جدوجہد کرنے تیار ہوئے ۔ اسی جدوجہد کو دیکھ کر مودی نےبیان دیا کہ مارنا ہے تو مجھے مارو۔ اس جدوجہد کے بعد کئی لوگوں کو دھمکیاں بھی دی گئیں، یہ جدوجہد صرف میری نہیں ہے ، ریاست کے تمام اضلاع میں جاری ہے ، اسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ اٹراسٹی قانون جاری رہتے ہوئے کوئی خصوصی عدالت نہیں تھی اب خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آرہاہے۔ اڈانی اور امبانی کے لئے زمین دینا ممکن ہے تو دلتوں کے لئے کیوں نہیں ؟۔گجرات میں بی جے پی اور کانگریس دونوں نے دلتوں کو زمین نہیں دی ، بھارت کی معیشت میں جو تفریق ہے وہ اصل میں چھوت چھات والے نظام کی وجہ سے ہے ۔ اس منوواد کی ہمیں مخالفت کرنی ہے ، اگرحکومت کرناٹکا دلتوں کو زمین نہیں دیتی ہے تو اس کے خلاف سینہ سپر ہونگے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہاں جتنے نوجوان ہیں ان میں روہیت ویمولا زندہ ہیں ، حالیہ جاری ہوئی رپورٹ میں روہیت دلت نہیں ہونے کی بات کہی گئی ہے، اس کے خلاف بھی ہمیں جدوجہد کرنی ہے۔ جب سے نریندر مودی وزیر اعظم ہوئے ہیں اس کے بعد ان کا غرور سرچڑھ کر بول رہاہے، دلتوں پر حملہ ہورہاہے، گورکشھا کمیٹیوں کو برخاست کریں، اور اُڈپی مٹھ میں جاری تفریق والے کھانے کا نظام نکال باہر کریں، اس کے لئے 2مہینو ں کی مہلت دیتے ہیں، اگر نہیں تو ہم مٹھ کا گھیراؤ کریں گے۔ اس کے لئے جیل جانے بھی تیار ہیں۔