ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اُڈپی : سرکاری اسپتال کی نجی کاری کرنا عوامی دھوکہ ہوگا: حکومتی فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج

اُڈپی : سرکاری اسپتال کی نجی کاری کرنا عوامی دھوکہ ہوگا: حکومتی فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج

Sat, 29 Oct 2016 21:39:03    S.O. News Service

اُڈپی30/اکتوبر(ایس او نیوز) اُڈپی کا ضلع سرکاری خواتین و اطفال اسپتال کی نجی کاری کرتے ہوئے سرمایہ داروں کو منتقل کئےجانے کے سرکاری فیصلہ کے خلاف اسپتال ہت رکشھنا ویدیکے ووکوٹ کی قیادت میں خاموش جلوس کا اہتمام کرتے ہوئے زبردست احتجاج درج کیاگیا۔

جوڈوکٹے پر خاموش جلوس کا افتتاح کئے ادیبہ وئیدیہی نے کہاکہ حاجی عبداللہ کی طرف سے عطیہ کردہ زمین کو حکومت ، پرائیوٹ لوگوں کو دینا عوام کی بے عزتی کرنے کے برابر ہے۔ اسپتال بہت ہی خستہ حالت میں ہونےکاسبب بتا کر نجی کاری کرنا حکومت کی کمزوری ہونے کی بات کہتے ہوئے حکومتی فیصلے کی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ متعلقہ اسپتال ذاتی جائیداد نہیں ہے ، یہ عوامی ملکیت ہے ، غریبوں کا اسپتال ، امیروں کو نہ دیں، بہتر خدمات انجام دینےو الے اسپتال کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنا عوام کو دھوکہ دینے کے برابر ہے ۔ اسپتال کا نام بدلنے کاحق کسی کو بھی نہیں ہے ، عطیہ کردہ دستاویزات کے گم ہونے کی بات کہی جارہی ہے، اس کے لئے کسی دستاویزات کی ضرورت ہی نہیں ہے ، یہ نسل درنسل، عوامی زبانوں سے بہنے والے شواہد کیا کسی دستاویز سے کم ہیں۔

اس کے بعد احتجاجیوں نے منہ پر سیاہ پٹی باندھ کر جوڈوکٹے سے کے ایم روڈ ، سرویس بس اسٹانڈ سےہوتے ہوئے کلاک ٹاور تک خاموش جلوس نکالا ۔ احتجاجی جلوس میں زچگی کے لئے اسپتال میں داخل ہوئیں غریب خواتین کے حالات پر روشنی ڈالنےو الے  نتیانند ولکاڑدو کے ناٹک کو پیش کیا گیا۔ کلاک ٹاورکے روبرو ووکوٹا کے سنچالک ڈاکٹر پی وی بھنڈاری نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسپتال کی نجی کاری سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ اس سے عوام کو زبردست نقصان ہوگا۔ ہم کسی حال میں یہ اسپتال ذاتی لوگوں کی ملکیت نہیں بننے دینےکا اعلان کیا۔ اور کہاکہ اس کے خلاف ہر نہج پر جدوجہد کریں گے۔ اگراستپال کو بہتر بنانے ، ترقی دینے کے لئے حکومت کو ممکن نہیں ہوپارہاہے تو مزید ایک سال آگے بڑھائیں، ہم خود لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے اسپتال کو 100-150بیڈ میں منتقل کرتے ہوئے بہترترقی کرنے کی بات کہی۔ متعلقہ زمین سے لوگوں کا ایک جذباتی تعلق ہے، اسی لئے حکومت یہ اسپتال عوامی جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسپتال ذاتی نہ بنائیں۔اسپتال کو نجی ملکیت میں دینے سے روکنے کے لئے مخیر حضرات نے موقع پر ہی اپنی طرف سے عطیہ جات کا اعلان کرتے ہوئے ترقی کی باتیں کہیں۔  اس موقع پر دلت سوابھیمانی سنگھرش سمیتی کے سندر ماسٹر، کرناٹکا کومو سوہاردا کے جی راج شیکھر، حاجی عبداللہ کے رشتہ دار خورشید، میناکشی بھنڈاری ، جماعت اسلامی ہند کے اکبر علی ، سہمت کے ششی دھر ہیماڑی ، صحت عامہ کی ٹینا موجود تھیں۔ احتجاج میں سابق رکن اسمبلی یوآر رگھوپتی بھٹ، ادیبہ جیوتی گروپرساد، مختلف تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران ، حسین کوڑی بینگرے  ، بال کرشنا شٹی ، عبدالرحمن ملپے ، روی راج، کوی راج، ڈاکٹر ویروپاکشا ، پروفیسر فنی راج، انصار احمد، یحییٰ نقویٰ، کرامت علی، میتھائیس، پرمیشور، پرسناکمار وغیرہ موجود تھے۔

اسپتال کی نجی کاری ، غریبوں کی قبر پر : اُڈپی ضلع مسلم متحدہ محاذ کے صدر محمد یسین ملپے نے اس موقع پر کہاکہ اسپتال کی نجی کاری کے  لئے کی جانے والی سنگ بنیاد دراصل غریبوں کی قبر ہونے کی بات کہی ۔حکومت  این آرآئیز سرمایہ دار کے ذریعے غریبوں کو دفن کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ غریبوں کے اسپتال کو چھین کر امیروں کے ہاتھوں تھمانا اہندا کے وزیراعلیٰ کہلانے والے سدرمیا کی شخصیت پر یہ ایک داغ ہوگا۔ اسی لئے حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے رد کرنےکی مانگ کی ۔

صحت عامہ کی کارکن ٹینا نے نے کہاکہ سرکاری اسپتال ہوگاتو ہم اپنا حق ِ صحت پوچھ سکتے ہیں، اگر یہ ذاتی ملکیت بن گیا تو ان کی طرف سے دی جانے والی صحت کی بھیک پر ہمیں زندہ رہنا ہوگا۔

 


Share: