اُڈپی :9؍جون (ایس اؤ نیوز) ریاست کرناٹک کے اسکولوں کی دوبارہ شروعات ماہ اگست میں مرحلہ وار شروع کی جائے گی۔ اس بات کا اعلان وزیرتعلیم سریش کمار نے کیا ۔ضلع اُڈپی کے منی پال میں منگل کو ایس ایس ایل سی امتحانات کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت مرحلہ وار اسکولوں کی شروعات پر غور کررہی ہے ، اس سے قبل سبھی ذمہ داران کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ، کابینہ میں فیصلہ لینے کے بعد اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔
اُڈپی، دکشن کنڑا اور اترکنڑا اضلاع کے ضلع پنچایت سی ای اؤ ، محکمہ تعلیمات کے ڈی ڈی پی اؤ اور بی ای اؤ کے ساتھ میٹنگ منعقد کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم سریش کمار نے بتایا کہ فی الحال ریاست میں اسکولوں کو شروع کرنے کاحکومت کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سریش کمار نےکہاکہ ممکن ہے کہ اگست کے درمیان میں اسکول شروع ہوں، مرحلہ وار پہلے ہائی اسکول ،پھر ہائر پرائمری ، پھر پرائمری اسکول شروع کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بچوں کی تعلیمی زندگی کا خیال رکھتے ہوئے ہم ایس ایس ایل سی امتحانات رد نہیں کریں گے ، بلکہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ امتحانات منعقد کریں گے۔ کنٹین منٹ زون کے طلبا اگر 25جون کو امتحانات میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو انہیں سپلیمنٹری امتحانات میں فرش امیدوار کے طورپر امتحانات کے پرچے لکھنے کا موقع دیاجائے گا۔
وزیر تعلیم نے بتایاکہ ابھی تک میں نے بحیثیت وزیر تعلیم ریاست کے 34تعلیمی اضلاع میں سے 28اضلاع کا دورہ کرتےہوئے ایس ایس ایل سی امتحانات کی پیشگی تیاریوں کا جائزہ لے چکا ہوں۔ ساتھ ہی عوامی نمائندوں ، محکمہ جات افسران ، والدین سمیت سبھی کے ساتھ گفتگو بھی کیاہوں ،انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں امتحانات کی تیاریاں اطمینان بخش ہیں۔
پریس کانفرنس میں ریاستی وزیر برائے ماہی گیر کوٹاشری نواس پجاری ، رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ، لال جی ٹنڈن ، ضلع پنچایت صدر دنیکر بابو، ڈی ڈی پی آئی شیشین کارنجی وغیرہ موجود تھے۔
آن لائن تعلیم کے متعلق بدھ کو فیصلہ : گزشتہ کچھ دنوں سے آن لائن تعلیم کے متعلق کافی بحث ہورہی ہے ، اس سلسلےمیں غور وفکر کرنے آج بلائی گئی میٹنگ ادھوری رہی ، اس لئے کل بدھ کو پھر میٹنگ منعقد ہورہی ہے جس میں آن لائن تعلیم کے متعلق مفصل بات چیت ہوگی۔ وزیر تعلیم نے ایل کے جی ، یوکے جی بچوں کو بھی آن لائن تعلیم دینے کی کوششوں پر بیزارگی کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ چھوٹے چھوٹے بچوں اور پرائمری کے طلبا کو آن لائن تعلیم دینا صحیح نہیں ہے ، اس سے ان پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سریش کمار نے کہاکہ آن لائن تعلیم سے طلبا کے ساتھ والدین پر بھی بوجھ بڑھ جاتاہے، ان سبھی باتوں کولے کر کل میٹنگ میں غور کرنے کے بعد حتمی فیصلہ لیں گے۔ میٹنگ میں ماہر اطفال ، بچوں کے ماہر نفسیات بھی حاضر رہیں گے ۔ کلی طورپر مانا جارہاہے کہ آن لائن تعلیم کے ذریعے والدین و سرپرستوں سے رقم وصول کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔