ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اُڈپی: کورونا کو لے کر بسوں پر سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر ڈپٹی کمشنر نے بسوں پر سے طلبہ کو اُتارا، عوام کی طرف سے زبردست تنقید

اُڈپی: کورونا کو لے کر بسوں پر سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر ڈپٹی کمشنر نے بسوں پر سے طلبہ کو اُتارا، عوام کی طرف سے زبردست تنقید

Tue, 20 Apr 2021 18:09:33    S.O. News Service

اُڈپی 20اپریل (ایس او نیوز) کوویڈ کے رہنما اُصولوں پر عمل نہ کرنے کے خلاف مہم چلاتے ہوئے اُڈپی ڈپٹی کمشنر نے آج منگل کو جب  مسافروں سےبھری ایک بس کو روک کر مسافروں کو نیچے اُتارا تو کئی طلبہ و طالبات بھی اس کی زد میں آگئے، جنہوں نے  ڈی سی کے اس اقدام کی جم کر مخالفت کی ، اس تعلق سے ایک  وڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس  میں ڈپٹی کمشنر کو عوام نے راست نشانہ پر لیا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اُڈپی ڈپٹی کمشنر جی جگدیشا نے سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ایک بس کو روکا اور جو مسافر بس پر کھڑے ہوکر سفر کررہے تھے، اُن سبھوں کو نیچے اُتار دیا، اتنا ہی نہیں انہوں نے اپنے حکام کو حکم دیا کہ وہ بس ڈرائیور کے خلاف زائد مسافروں کو بھر کر لے جانے اور  کوویڈ پروٹوکول پر عمل نہ کرنے   کی بنیاد پر معاملہ درج کرے۔

بس پر طلبہ و طالبات کو نیچے اُتارنے سمیت میڈیا سے گفتگو کرنے کی  ایک طالبہ کی  وڈیو  سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں  طالبہ نے بتایا کہ ڈی سی نے ہم لوگوں کو بس سے  اُتارا اور وہاں سے چلے گئے،لیکن اب ہم گھر کیسے جائیں گے، اب جو بس آئے گی وہ بس بھی مسافروں سے بھری رہے گی،  ایسے میں بسوں پر سماجی فاصلہ  برقرار رکھنا کیسے ممکن ہے ؟ طالبہ نے وڈیو میں بتایا کہ  یہاں    کالج سے گھر جانے کے لئے   بسوں کی مناسب سہولت نہیں ہے،  ہم ہمیشہ بھری ہوئی بس پر ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں۔طالبہ نے اپنی مجبوری ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پہلے تو میں ایک لڑکی ہوں، میں ایک دیہات میں رہتی ہوں، مجھے اب گھر جانا ہے، کیسے جاوں ؟ میں پانچ بجے کالج سے  باہر نکلی ہوں، کالج سے پانچ بجے کی بس پر سوار ہوکر گھر جانا میرا معمول ہے، اگر یہ بس چھوٹ گئی تو پھر آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے، آدھے گھنٹے بعد بھی جوبس آتی ہے وہ بھی مسافروں سے بھری ہوئی رہتی ہے۔اگر میں بس پر سوار نہیں ہوں گی تو پھر گھر کیسے پہنچوں گی ؟ مجھے امتحان دینا تھا اس لئے گھر سے نکلی ہوں، مجھے بھی کورونا کا ڈر ہے، لیکن  بس پر سوار نہیں ہوں گی تو گھر کیسے جاوں گی ؟ ڈی سی نے ہمیں  نیچے اُتارا اور اور چلے گئے اب یہاں جو  اگلی بس آئے گی وہ بھی مسافروں سے بھری ہوئی  ہوگی،  کالج سے گھر پہنچنے کے لئے مجھے ایک گھنٹہ لگتا ہے، آج مجھے بس سے اُتارا گیا تو مزید لیٹ ہوجاوں گی۔ طالبہ نے یہ بھی بتایا کہ  گھر پہنچنے میں تھوڑی سی بھی  تاخیر ہوتی ہے تو گھر والے فکرمند ہوجاتے ہیں۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے نہ دوسری بس کا انتظام کیا اور نہ ہی کوئی متبادل راستہ بتایا کہ  جن لوگوں کو بس سے اُتارا  گیاہے،وہ اپنی منزل کیسے پہنچیں گے ؟ لوگ سوال کررہے ہیں کہ  ایک طرف سرکاری بس   والوں کا احتجاج چل رہا ہے، سرکاری بس سروس بند ہے، دوسری طرف پرائیویٹ بسوں پر  زائد مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی  ہے  تو پھر لوگ  اپنی منزل جائیں گے کیسے  ؟ لوگ سوشیل میڈیا پر  ڈی سی  سے یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ  آپ آئے، لوگوں کو آدھے راستے پر ہی اُتارا، وڈیو بنائی اور چلے گئے، اب جو طالبات بس سے نیچے اُترکر پریشان ہیں، اُن کو اُن کے گھر کون پہنچائے گا ؟


Share: