اُڈپی:16؍ دسمبر(ایس اؤ نیوز ) سورتکل ٹول گیٹ مخالف ہوراٹا سمیتی اور یکساں ذہنیت والی تنظیموں کے لیڈران اجرکاڑو انشورنس ملازمین سنگھا کے دفتر میں میٹنگ منعقد کرتےہوئے سورتکل کے غیرقانونی ٹول گیٹ کی فیس ،ہیجماڑی ٹول گیٹ پر وصول کئے جانے کے متعلق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے جاری حکم نامے کے متعلق غوروخوض کیا گیا، بعد میں 29 دسمبر کو اُڈپی تعلقہ آفس کے باہر عوامی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سورتکل ٹول گیٹ کی فیس ، ہیجماڑی میں وصول کئے جانے کے متعلق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکم کو ریاستی حکومت نے تصدیق کرنے اور منظوری دینے کے بعد ہی شائع کیا ہے۔البتہ ہیجماڑی ٹول پلازہ کی ملکیت رکھنے والے نوا یوگ کمپنی فیس وصول کو لےکرتذبذب میں ہونےکی وجہ سے عارضی طورپر فیس پر روک لگائی گئی ہے۔
میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ گرچہ ضلع انتظامیہ نے مہلت مانگی ہے چونکہ ریاستی حکومت کی منظوری حاصل ہے تو کسی بھی وقت فیس کی وصولی شروع ہوسکتی ہے۔ ضلع کے ایم پی ، ایم ایل ایز نے فیس وصولی کو ودھان سبھا انتخابات تک ملتوی کرتےہوئے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنےکاکام کررہے ہیں۔مجموعی طورپر دیکھیں تو میٹنگ میں سبھی کی متفقہ رائے تھی کہ ہیجماڑی ٹول گیٹ پر اضافی ٹول فیس وصولی ممکن ہے۔
ہیجماڑی ٹول گیٹ پر سورتکل ٹول فیس وصولی کا آرڈر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ہے ، اس مسئلہ کا مستقل حل یہی ہے کہ اتھارٹی اپنا حکم واپس لے یا رد کرے۔ اس سلسلےمیں دونوں اضلاع میں وسیع ترتشہیری مہم منائے جانے کو لے کر 29دسمبر کو اُڈپی تعلقہ آفس کے سامنے بہت بڑے پیمانے پر عوامی دھرنا دینے کا میٹنگ میں فیصلہ لیاگیا ۔
میٹنگ کی صدارت سابق وزیر ونئے کمار سورکے نےکی۔ ہوراٹا سمیتی کےسنچالک منیر کاٹی پالیانے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ سابق وزیر ابھئے چندرجین ، بس مالکان سنگھ کے لیڈر کشن ہیگڈے ، مختلف تنظیموں کےنمائندے ایم جےہیگڈے، سندرماسٹر، سریش کلاگر، شیکھر ہیجماڑی ، رالٹی ڈیکوستھا، ششی دھر گولّا، پرشانت جتن وغیرہ موجود تھے۔ سی پی ایم لیڈر بال کرشنا شتی نے استقبال کیا تو اُڈپی بلاک کانگریس صدر رمیش کانچن نےشکریہ اداکیا۔