نئی دہلی،20؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے پیر کو الزام لگایا کہ حکومت 12 ارکان پارلیمنٹ کی معطلی پر تعطل کو حل کرنے کے لئے صرف چند جماعتوں کو بلا کر اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھرگے نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہی ہے لیکن پارٹیاں اس مسئلہ پر متحد ہیں۔ حکومت کو آل پارٹی اجلاس بلانا چاہیے۔
ملکارجن کھرگے پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کی طرف سے پیر کے روز اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ بلانے پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے، جن کے ممبران پارلیمنٹ کو گزشتہ ماہ پورے سرمائی اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ پرہلاد جوشی نے کانگریس، ترنمول کانگریس، شیوسینا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے ایوان میں تعطل ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیرمین ایم وینکیا نائیڈو نے تجویز پیش کی تھی کہ دونوں فریقین کو اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے کیونکہ ایوان نے اس ہفتہ ٹھیک سے کام نہیں کیا۔ جبکہ قائد ایوان پیوش گوئل نے معطل ایم پی ایس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مارشلوں پر حملہ کرنے اور خواتین مارشلوں کے ساتھ بدسلوکی کے بعد بھی اپوزیشن کے سینئر ارکان میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کی درخواست پر غور کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ وہ معافی مانگیں۔
حالانکہ، ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ہم آپ کو بار بار بتا رہے ہیں کہ جو جرم ہم نے کیا ہی نہیں ہے اس کا الزام ہم پر لگایا جا رہا ہے اور حکومت پر اس واقعہ کو لے کر ایوان کو گمراہ کرنے کا بھی الزام لگایا۔ کانگریس نے مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے دونوں ایوانوں میں ورچوئل میٹنگ بھی بلائی ہے۔ سرمائی اجلاس 23 دسمبر کو ختم ہونے والا ہے۔