نئی دہلی، 06 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی سے اتحاد کے اعلان کے بعد بھی شیوسینا کے جارحانہ تیور جاری ہیں۔شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے ادارتی مضمون میں مودی سررکارپر دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایئراسٹرائک کے جوش میں لوگ کسانوں کی خودکشی کے مسئلے کو بھول رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی مضمون میں مہاراشٹر میں ایک ہی دن میں تین کسانوں کی خودکشی کا حوالہ دیا گیا ہے۔منگل کو ہی ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا تھا کہ ہمارا ملک جمہوری ملک ہے اور ہر ایک کو سوال کرنے کا حق ہے،یہ بات پاکستان کے بالاکوٹ میں ہندوستانی فضائیہ کے ایئر اسٹرائک کو لے کر پوچھے جا رہے سوالات کے تناظر میں کہی گئی۔اداریہ میں کہا گیا کہ لوگوں کو جاننے کا حق ہے اور ان سوالات سے ہندوستانی فوجوں کا حوصلہ نہیں گرے گا۔بدھ کو شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا کہ ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کسی بھی وقت لاگو ہو جائے گا۔ایسے میں انتخابی ضابطہ اخلاق سے پہلے ہم ہر جگہ سے افتتاح، نئے پروجیکٹس کے آغاز اور کئی پروجیکٹس کا اعلان کے بارے میں سن رہے ہیں،ہم نے انہیں وزیر اعظم مودی کی کئی ریلیوں میں ایسا ہی سنا۔وزیر اعلی دیویندر فڑنویس بھی پیچھے نہیں ہیں۔انہوں نے گنگا میں جاکر آشیرواد لئے۔مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ کی جانب سے 25 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے لئے قرض معافی کی سوغات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔’سامنا‘ میں لکھا گیا ہے کہ ایئر اسٹرائک کے جوش میں لوگ مدہوشی میں چلے گئے ہیں اور سب نے کسانوں کی خودکشی کے مسئلے کو بھلا دیا ہے۔مہاراشٹر کے بیڑ میں تین کسانوں نے ایک ہی دن میں خودکشی کی،یہ بہت سنگین ہے اور مہاراشٹر میں کسانوں کی حالت کو لے کر کئی سوال اٹھاتا ہے۔اداریہ کے مطابق ناندیڑ میں صرف دو ماہ میں 18 کسانوں نے خودکشی کی،350 تحصیلوں میں سے 180 کو خشک متاثرہ اعلان کر دیا گیا ہے۔مراٹھواڑا اور ودربھ میں حالات 1972 کے خشک سالی سے بھی زیادہ خراب ہیں۔’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ سخت حالات میں کسان اپنی گائے فروخت کرنے پر مجبور ہیں،بعد میں ان کا کیا ہوگا؟ یہ ان سارے گورکشکوں کو تلاش کرنا چاہئے۔اداریہ کے مطابق حکومت نے پلوامہ حملے میں شہید ہمارے جوانوں کا بدلہ لیا، لہذا حکومت کی تعریف کی گئی، لیکن ہمارے جوانوں کی طرح ہی کسان بھی مارے جا رہے ہیں،ان کا کیا؟ ہمارے کسانوں کے مارے جانے کا بدلہ کون لے گا؟۔