ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایودھیا بابری مسجد معاملہ: 4 جنوری کو ہوگی سپریم کورٹ میں سماعت؛عدالتی موقف سے طے ہوگا حکومت کا اگلا قدم

ایودھیا بابری مسجد معاملہ: 4 جنوری کو ہوگی سپریم کورٹ میں سماعت؛عدالتی موقف سے طے ہوگا حکومت کا اگلا قدم

Wed, 26 Dec 2018 00:59:11    S.O. News Service

نئی دہلی25دسمبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)  2019 لوک سبھا انتخابات سے پہلے بابری مسجد  پر سیاسی بیان بازی کے درمیان بابری مسجد کی اراضی ملکیت کے قضیہ پر سپریم کورٹ میں چار جنوری کو سماعت ہوگی۔ عدالت کے رخ کے بعد طے ہوگا کہ حکومت بابری مسجد ر پر کیا قدم اٹھاتی ہے۔ بابری مسجد /رام جنم بھومی کو لے کر بی جے پی پر شدت ہندو تنظیم، آر ایس ایس اور شیوسینا کا دباؤ ہے۔ تمام ہندو شدت پسند تنظیمیں سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ہو رہی تاخیر کی دلیل دیتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون لائے جانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق چار جنوری کو سپریم کورٹ میں جب رام مندر پر سماعت ہوگی تو حکومت کیس کی باقاعدہ سماعت کا مطالبہ کرے گی۔ 29 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والے بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر جنوری میں سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ایودھیا کے متنازعہ مقام کو تین حصوں میں منقسم کرکے تینوں فریق میں تقسیم کردیا  تھا کسی بھی فریق نے اُس فیصلہ کو قبول نہیں  کیاتھا جس کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ ہندووادی تنظیموں نے سیدھا طور پر سماعت میں تاخیر کا الزام لگایا ہے۔گزشتہ دنوں بی جے پی صدر امت شاہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ میں روزانہ اس معاملے کی سماعت ہو تو رام مندر کا مسئلہ 10 دن میں ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے، مگرملک کے باشندگان (ہندوطبقہ ) رام مندر کا درشن کرنا چاہتے ہیں ۔ 

فاسٹ ٹریک کورٹ کی طرح ہو ایودھیا معاملے کی سماعت: روی شنکر
مرکزی قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے سپریم کورٹ میں ایودھیا کے بابری مسجد ۔رام جنم بھومی کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ کی طرح کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ جب سبری مالااور ہم جنس پرستی کے معاملے میں عدالت جلد فیصلہ دے سکتی ہے تو ایودھیا معاملے پر کیوں نہیں۔ وزیر قانون نے دیگر عوامی خدمات کی طرح مستقبل میں ججوں کی تقرری کے لیے بھی آل انڈیا جوڈیشیل سروسز نظام لانے کی بات کہی۔ پرساد نے آل انڈیا ایڈووکیٹ کونسل کے 15 ویں قومی اجلاس کے افتتاح موقع پر کہا کہ وہ ذاتی طور پر سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ رام جنم بھومی معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ کی طرح ہو، تاکہ اس پر جلد سے جلد فیصلہ آ سکے۔انہوں نے دلیل دی کہ جب سپریم کورٹ سبری مالااور ہم جنس پرستی کے معاملے پر جلد فیصلہ دے سکتا ہے تو رام جنم بھومی کیس 70 سال سے کیوں التوا ء ہے۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے جسٹس ایم آر شاہ، الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس اے آر مسعودی بھی موجود تھے۔ پرساد نے کہا کہ ہم بابر کی پوجا کیوں کریں ،بابر کی پوجا نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے آئین کی کاپی دکھاتے ہوئے کہا کہ اس میں رام چندر جی، کرشن جی اور اکبر کا بھی ذکر ہے، لیکن بابر کا ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تین طلاق بل کو آسان بنایا ہے۔ اس کے ساتھ اس میں ضمانت دینے کا انتظام کیا جا رہا ہے لیکن متاثرہ کا بیان لینے کے بعد ایسا ہوگا۔ ان کے مطابق دنیا کے 22 اسلامی ممالک میں تین طلاق پہلے ہی محدود ہے۔


Share: