نئی دہلی،10؍اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) سپریم کورٹ نے آج واضح کیا کہ ایودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی تنازع کی سماعت پانچوں دن ہوگی۔عدالت کے اس فیصلے کی سنی وقف بورڈ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کے دلائل مسترد کرتے ہوئے پانچوں دن سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔سپریم کورٹ میں عام طورپر پیر اور جمعہ کو نئے معاملوں کی سماعت ہوتی ہے۔عدالت عظمیٰ نے بھی اس سے پہلے ایودھیا تنازع کی سماعت منگل،چہارشنبہ اور جمعرات کو کرنے کا فیصلہ کیاتھا،لیکن کل کی سماعت کے دوران اس نے اسے جمعہ اور پیر کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی،جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ،جسٹس ایس اے بوبڑے،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنظیر کی آئینی بینچ نے جیسے ہی آج سماعت شروع کی ویسے ہی وقف بورڈکے وکیل راجیو دھون نے اس کی مخالفت کی۔مسٹر دھون نے کہاکہ اگرہفتے کے پانچ دن اس معاملے کی سماعت چلتی ہے تو تیاری کا موقع فریقوں کو نہیں ملے گا۔یہ فیصلہ غیر انسانی ہے اور اس سے عدالت کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔مجھ پر مقدمہ چھوڑنے کا دباؤبھی بڑھے گا۔ان کی اس مخالفت پر جسٹس گوگوئی نے کہاکہ ہم نے آپ کی تشویش کو درج کرلیا ہے،ہم آپ کو جلد اطلاع دیں گے۔ جب آج معاملے کی سماعت ختم ہونے والی تھی تو جسٹس گوگوئی نے واضح کیا کہ آئینی بنچ پانچوں دن اس کی سماعت کرے گی۔ اگر مسٹر دھون کو ضروری ہوا تو انہیں درمیان میں کسی دن چھٹی دی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ جمعہ کو ہوئی سماعت کے دوران آئینی بنچ نے کہا تھا کہ ہم اس معاملے کی روزانہ سماعت کریں گے۔آئینی بنچ اس معاملے کو ترجیح دے رہی ہے۔ججوں کو مقدمے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی ہوگی،کیونکہ اس کا ریکارڈ 20ہزار صفحات میں درج ہے۔ہمارا خیال ہے کہ اس سے دونوں فریقوں کے وکیلوں کو اپنی دلیلیں پیش کرنے کا وقت ملے گا اور جلد ہی اس پر فیصلہ آسکے گا۔