بنگلورو،28؍دسمبر(ایس او نیوز) ایمرجنسی اورنہایت ضرورت کے تحت ”مائیکرولون“ جیسے اپلیکیشن (ایپ)ڈاؤن لوڈکرتے ہوئے قرضہ کے لیے عرضی داخل کرنے والے افرادہوشیارہوجائیں ورنہ جیب اورآپ کے چین وسکون پرقینچی چل جائے گی۔فوری بروقت اورآن واحد میں قرضہ فراہم کرنے والی ایپ پرمبنی کمپنیاں قرضہ دیکرآپ کوقرض کی دلدل میں پھانس کرنئی مصیبت میں مبتلاکررہی ہیں۔مختصرمدت کے لیے مائیکرولون فراہم کرنے والی سینکڑوں ایپ گوگل پلے اسٹورمیں شامل ہوگئی ہیں۔یہ ایپ پرمبنی قرض عوام کوتکلیفوں میں مبتلاکرتے ہوئے زندگی کا چین وسکون ختم کررہاہے۔اس طرح کے ایپ پرمبنی قرض فراہم کرتے ہوئے بے انتہائی سودعائدکیاجارہاہے۔ اس قسم کے ایپ پرمشتمل لون لیکراذیتوں سے دوچارقرضداروں نے ان ایپوں سے تنگ آکرکرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ(سی آئی ڈی)اور سائبرکرائم پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔گزشتہ پڑوسی ریاست کی راجدھانی حیدرآبادمیں بھی وہاں کی پولیس نے مائیکروفائنانس کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی سودی لین دین میں ملوث افرادکوگرفتاربھی کرلیاہے۔
بینکنگ سیکٹرسے تعلق رکھنے والے ماہرین نے جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاکہ ریزروبینک آف انڈیا(آربی آئی)کے اصول وضوابط کے تحت ایپ پرمشتمل لون کمپنی راست طورپرکسی کوقرض نہیں دے سکتی۔ ایپ راست طورپرکسی کے لیے قرض منظورنہیں کرسکتے۔ا یپ پرمبنی کمپنیوں کوسب سے پہلے نان بینکنگ فائنانشیل کمپنی (این بی ایف سی)یا مائکروفائنانس انسٹی ٹیوشن(ایم ایف آئی) کے ساتھ معاہدہ کرناہوتاہے۔ لون پرمشتمل ایپ تشکیل دینے والی کمپنیوں کوچاہئے کہ وہ این بی ایف سی اورقرض داروں کے مابین ایک مناسب اسٹیج بنائے۔اس طرح راست طورپر اپنے پاس موجودپیسوں کو قرض کی شکل میں نہیں دے سکتے۔
ماہرین نے مزیدکہاکہ این بی ایف سیزبھی قرض یافنڈنگ کے ذریعہ ہی چلتے ہیں۔وہ جس سودپرقرض حاصل کرتے ہیں اس پرزیادہ سے زیادہ 10فیصد سودڈالاجاسکتاہے۔لیکن ساتھ ساتھ ایپ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی کوپروسسنگ فیس،اسٹیج بناکردینے پرفیس عائدکرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔لیکن سوشیل میڈیاکے ذریعہ سراٹھائے ہوئی ایپ کی جانب سے فراہم کردہ قرضوں پر36فیصدسے زائدسودنیزسوددرسود شرح طے کرتے ہوئے قرضداروں کا دیوالہ نکالنے پرتل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایپ پرمبنی یہ کمپنیاں قرض کومنظوری دیتے وقت ہی سودکی شرح کاٹ لیتی ہیں،یعنی یہ کمپنیاں اگر3ہزارروپے قرض منظورکرتی ہیں تو36فیصدسودکی شرح طے کردیتی ہیں،پھراس کے ساتھ جی ایس ٹی،پروسسنگ فیس کا بہانہ بتاکرمنظورکردہ 3ہزارروپے میں سے صرف 1800روپے قرض دیتی ہیں۔پھرقر ض کی واپسی کے لیے صرف ایک ہفتہ وقت دیتے ہیں۔ایک دن کی بھی تاخیرپرنفسیاتی دباؤ ڈالتے ہوئے اذیت دی جاتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیتے ہوئے ایپ کے ذریعہ قرض حاصل کرکے پریشانیوں سے دوچارافرادسے کہاکہ اس قسم کی شکایت ہے تواسٹیٹ لیول کوآرڈی نیشن کمیٹی(ایس ایل سی سی)میں شکایت کریں۔صرف ایپ کی جانب سے طے کردہ شروط ماننے کی وجہ سے ہائڈن فیس چارج عائدکرتے ہوئے ایپ کمپنیاں من مانی نہیں کرسکتیں۔غیرقانونی مالیاتی لین دین کے سلسلہ میں نگرانی رکھنے کے لیے مرکزی اوریاستی حکومتوں کی مشترکہ نگران کارکمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔