نئی دہلی،19؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کےسپریم کورٹ نے ایڈجسٹیڈ گروس ریونیو (اے جی آر) کے معاملہ میں ٹیلی کوم کمپنیوں کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کی ادائیگی کے لئے وقت دینے کی حکومت کی درخواست پر بدھ کو کوئی حکم دینے سے انکار کر دیا لیکن اس دوران حکومت کو سخت سست کہا اور ٹیلی کوم کمپنیوں کو بھی نہیں بخشا ۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ نے کمپنیوں کو ڈھیل دئیے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ انہیں سود سمیت پیسہ ادا کرنا ہو گا ۔ اس معا ملے میں اب کوئی شنوائی نہیںہو گی ۔ کمپنیوں کو پیسہ ادا کرنا ہے یہ بات وہ گانٹھ باندھ لیں۔ اس دوران حکومت نے عدالت سے کہا کہ وہ کمپنیوں کو پیسے ادا کرنے کے لئے وقت دیں جس پر غور کرنے کے لئے عدالت نے معاملہ کی سماعت ۲؍ ہفتہ کے لئے ملتوی کردی لیکن حکومت کو ٹیلی کوم کمپنیوں سے وصولی کے لئے نیا پلان دینے کو کہا۔
واضح رہے کہ حکومت20؍ سال میں وصولی کی بات کہہ رہی ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار تو کیا لیکن اس پر غور کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ اس سے قبل عدالت نے ٹیلی کمیونی کیشن محکمہ کو سخت سست کہا ۔ عدالت نے پوچھا کہ ’’بقایا رقم کے لئے خود جائزہ لینے کو کس نے کہا تھا ؟ بقایا رقم کی ادائیگی کے جائزہ کیلئے ہم نے اجازت نہیں دی تو یہ کیسے ہوا۔ کیا ہم بے وقوف ہیں۔ یہ توہین عدالت کا معاملہ بنتا ہے۔‘‘عدالت نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔یہ کورٹ کے وقار کی بات ہے، کیا ٹیلی کام کمپنیوں کو لگتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ کورٹ کو طرح طرح سے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےجو ہم برداشت نہیں کریں گے۔بہر حال عدالت نے سماعت ۲؍ ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔