لکھنؤ،9؍جنوری(ایس او نیوز؍یواین آئی) بابری مسجد انہدام کے ملزموں کو سی بی آئی کی اسپیشل کورٹ کے ذریعہ بری قرار دئیے جانے کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں چیلنج کیا گیا ہے -بابری مسجد کی مسماری کے ملزموں کے سلسلے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایودھیا کے حاجی محبوب اور حاجی اخلاق نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں کریمنل ریویژن پٹیشن داخل کی ہے - قاضی محبوب بابری مسجد-رام مندراراضی ملکیت معاملے میں بھی فریق تھے -
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال30؍ اکتوبر کو اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایس بی آئی کی اسپیشل عدالت نے 28سال پرانے بابری مسجد مسماری معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمین ایل کے اڈوانی،جوشی،اوما بھارتی،کلیا ن سنگھ سمیت تمام32ملزموں کو بری قرار دیا تھا-سی بی آئی کے خصوصی جج سریندر کماریادو نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بابری مسجد کی مسماری کسی سازش کا حصہ نہیں تھا-کار سیوا کے نام پر لاکھوں افراد ایودھیا میں یکجا ہوئے اور انہوں نے اشتعال میں آکرمسجد کو منہدم کیا-خصوصی جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھاکہ ثبوت کے طور پر پیش کئے گئے آڈیو ٹیپ کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی ہے جبکہ پیش کئے گئے فوٹو گراف کے نیگیٹیو نہیں دئیے گئے - اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کے انہدام میں ان ملزموں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا-
سی بی آئی جج نے کہا کہ جو کچھ ہوااچانک تھا -اس کیلئے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی-اس سے قبل سپریم کورٹ نے بابری مسجد - رام مندرمتنازع اراضی ملکیت معاملے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور بابری مسجد کیلئے اجودھیا میں ہی5؍ایکڑ زمین فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا-کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت نے ایودھیا کے دھنی پور میں مسجد کیلئے پانچ ایکڑ زمین فراہم کردی ہے تو وہیں متنازع زمین پر اب رام مندر کی تعمیر کی کارروائی جاری ہے -