بنگلورو،4/جنوری (ایس او نیوز/راست) شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے ملک کا ہر باشعور با ضمیر انسان جو ملک کے دستور پر یقین رکھنے والا اور قوانین پر عمل کرنے والا ہے وہ حد درجہ پریشان ہے۔ اس قانون پر احتجاجات نہ کئے جائیں تو دستور بے حیثیت ہوکر رہ جائے گا۔ بے پناہ قربانیوں کے بعد ملک آزاد ہوا اورقانون مرتب کیاگیا تھا اور اسی پر ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہمارے پرکھوں نے حلف بھی لیا اورانتظامیہ اسی پر چلتا رہا لیکن موجودہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے سکون واطمینان ختم ہوچکا ہے اورملک کا آئین خطرے میں ہے۔ اس پر امن احتجاج میں بہت سارے دلت، آدی واسی، ہندو، سکھ،عیسائی اور مسلمان کافی تعداد میں جمع ہوئے اور جئے ہندوستان، جئے بھیم ہندوستان زندہ باد کے نعرے بلند کئے۔ اس موقع پر قاری محمد ذوالفقار نوری نے کہاکہ موجودہ مرکزی سرکاراکثریت کے نشے میں ہندوستان کے جمہوری دستور سے کھلواڑ کررہی ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان جیسے عظیم ملک کو سجانے اور سنوارنے اور دشمن طاقتوں سے آزاد کرانے میں تمام مذاہب کے لوگوں نے اپنا خون اور پسینہ بہایا ہے۔ CAAبل کو ہم جوتے کی نوک پر مارتے ہیں اور اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے جب تک یہ قانون واپس نہ لیا جائے۔ مولانا ماہ زماں نوری نے کہاکہ یہ قانون کسی ایک طبقہ کے خلاف نہیں بلکہ دستور ہند کے آرٹیکل14،15کے خلاف ہے۔ حکومت ہندنے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ایسے قوانین لائے ہیں تاکہ لوگوں کا ذہن اس طرف الجھ جائے اور اس کی ناکامی پر پردہ پڑجائے۔ مفتی محمد احمد مصباحی نے کہاکہ یہ قانون مذہبی نفرت پھیلانے گھروں کو توڑنے اور گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے والا قانون ہے۔ اس احتجاجی اجلاس کی صدارت الحاج اے امیرجان قادری چیرمین جامعہ حضرت بلال نے کی۔ نگرانی الحاج اسماعیل شریف نانا نے کی۔ شرکائے اجلاس حضرت مفتی محمد اسلم، مولانا سلیم قاری منور مبلغ عظمت اللہ، مفتی فاضل، قاری الیاس، حافظ فیاض، مولانا محبوب، الحاج نواب جان قریشی، الحاج انیس احمد خان، الحاج جاوید احمد، سید معیدالرحمن، جلوس محمدی کمیٹی اعجاز احمد حسینی، اقبال متحدہ محاذ اقبال ٹیپو سلطان فرنٹ اے جی خان،دلت سمیتی سنگٹھن کے صدر ہبال وینکٹیش اور وکیل مہتری ودیگر معززین و عوام شریک رہے۔