بنٹوال:24/جنوری(ایس او نیوز) سجیپ کے محمدناصر اور محمد مصطفیٰ قتل معاملے کے تین ملزمان کی طرف سے دائرکردہ رٹ عرضی کو سپریم کورٹ نے رد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو منظوری دی ہے۔
تعلقہ کے سجیپ دیہات میں ملائی بیٹو کے مکین محمد ناصرکو 4ملزموں نے 7ستمبر 2015کی رات ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ کان کنی کے مزدور محمد ناصر اسی دیہات کے محمد مصطفیٰ کے آٹو کے ذریعے اپنے گھر لوٹنے کے دوران ملکار کے قریب محمد ناصر کو قتل کیا گیا تھا۔ آٹوڈرائیور مصطفیٰ پر بھی ملزمان نے قاتلانہ حملہ کرنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ معاملے کے ملزمان منچی کے مکین وٹھل اڈنتایا کے بیٹے وجیت کمار ، بڈگ الیواڑی کے مکین شیکھر پجاری کے بیٹے کرن پجاری ، منگلورو تروئیل کے مکین سدانند پجاری کے بیٹے انیش عرف دھنو پجاری کو بنٹوال پولس نے گرفتار کرتے ہوئے جیل میں قید کیا تھا۔ معاملے کا اور ایک ملزم منچی دیہات کا ابھی عرف ابھیجیت فرار ہے۔
قتل ، قاتلانہ کوشش جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کو ضلعی عدالت ایک ہی مہینے میں ضمانت عطاکئے جانے کے خلاف ناصر کا خاندان ریاستی ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی تھی ۔ ہائی کورٹ نے عرضی پر سماعت کرنے کے بعد ملزمان کی ضمانت رد کرتے ہوئے 16جنوری تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ ملزمان نے ہائی کورٹ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے رٹ داخل کی تھی۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سنوائی کرتےہوئے ہائی کورٹ فیصلے کو قائم رکھا اور ملزمان کی عرضی خارج کردی۔ ضمانت رد ہونے پر تینوں ملزموں کو پولس بہت جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے امکانات ہیں۔