بنگلورو:24؍ جنوری (ایس اؤ نیوز) ریاست کرناٹک کے اُڈپی گرلز گورنمنٹ پی یو کالج میں مسلم لڑکیوں کے حجاب معاملے کو پولرائز کرنے کے بجائے معاشرے کے تنوع کا احترام کرتےہوئے مسلم طالبات کو کلاسوں میں داخلہ دیں۔ گدگ ضلع کے تعلقہ نرگند میں مسلم نوجوان کی موت پر تشدد واقعات کے نتیجےمیں ہوئی ہے۔ حالات کو سیاسی رنگ دینے اور بگاڑنے والوں کےخلاف پولس سختی سےنمٹے۔ اسی طرح سوریہ نمسکار میں مسلم بچوں کوشامل ہونے پرمجبور کرنا ،بنیادی وآئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹکا نے حالیہ واقعات پر پریس ریلیز جاری کرتےہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی ہندکرناٹکا کی طرف سےجاری پریس ریلیز یہاں نقل کی جارہی ہے۔
اُڈپی گورنمنٹ گرلز پی یو کالج میں حجاب کا مسئلہ: اُڈپی کے گورنمنٹ گرلز پی یوکالج کے انتظامیہ نے مسلم لڑکیوں کو 31دسمبر 2021کو ہدایت دی گئی کہ وہ کلاس میں شرکت کے دوران حجاب نہ پہنے ۔ جس کے نتیجےمیں مسلم لڑکیوں اور انتظامیہ کے درمیان ناراضگی اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔ لڑکیوں کو آج تک کلاسوں سے باہر رکھا جارہاہے۔
لباس کے انتخاب کا حق، اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کرنا ایک بنیادی اور آئینی حق ہے جس سے کسی فرد کو محروم نہیں کیاجاسکتا۔ حجاب باوقار لباس کی ایک قدیم شکل ہے جو مسلمانوں اور مختلف ناموں سے دوسرے گروہوں کے پاس بھی رائج ہے۔ یہ شناخت اور ترقی کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں رہا۔ اُڈپی میں طالبات کو اس سے محروم کرنا اور اس کے نتیجے میں ان کے وقار اور تعلیم کے حق سے انکار کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ واضح رہے کہ 2016میں کیرلا ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں اس حق کو محفوظ کیا ہے۔
اس لیے ہم متعلقہ انتظامیہ ، حکومت اور وزیر تعلیم سے درخواست کرتےہیں کہ وہ اس معاملے کو بے ضابطگی کے معاملے کے طور پر نہیں بلکہ ایک بنیادی حق اور ہمارےمعاشرےکے تنوع کے احترام کے طورپر دیکھیں ۔ لڑکیوں کو حجاب پہننے کی اجازت دی جائے اور فوراًکلاسوں میں انہیں بحال کیا جائے۔ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے اور اس معاملے کو لوگوں کے درمیان پولرائزیشن اور نفرت کا باعث نہ بننے دیاجائے۔ مسلم وکوٹا اور دیگر عمائدین کی کوششوں کےنتیجےمیں اس مسئلےکا پرامن حل نکلنا چاہئے۔
سوریہ نمسکار: مرکزی حکومت نے 73ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات پر ہدایات جاری کی ہیں کہ پورے ملک میں موسیقی کے ساتھ سوریہ نمسکار کرنے کے خصوصی پروگرام منعقد کئےجائیں ۔ یہ منصوبہ 30ریاستوں ،30000اداروں اور 3لاکھ طلبا کو شامل کر کے 75کروڑ سوریہ نمسکار کا ہدف حاصل کرناہے۔
ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سوریہ نمسکار ایک مذہبی عقیدہ کی بنیادپر یوگا کا حصہ ہے جس میں سورج کو سجدہ کرنا اور بھجن شامل ہے۔ اسلام کسی بھی مخلوق کی عبادت سے سختی سےمنع کرتاہے اورا س بات کی تاکید کرتاہے کہ یہ صرف پوری کائنات کے خالق اللہ کے لیےجائز ہے۔ مسلمانوں کو حضور اکرم ﷺ کی پیار ی ہستی کوبھی سجدہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں سورج کی عبادت سےمشابہت کے شبہ سے بچنے کےلئے طلوع یا غروب کے وقت پر نماز (جس میں سجدہ بھی شامل ہے)پڑھنے سےمنع کیاگیا ہے۔
لہذا مسلمان بچوں سے سوریہ نمسکار میں شرکت کی توقع رکھنا یا ان کو مجبور کرنا ، ان کے بنیادی اور آئینی حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ حکومت کو ایک کمیونٹی کے مذہبی رسومات کو دوسرے پر تھوپنا نہیں چاہئے کیونکہ یہ سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی اور مساوات، انصاف اور آزادی کی روح کے خلاف ہے۔
ہم مسلمان والدین اور بچوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مشرکانہ عمل میں ہرگز حصہ نہ لیں۔ یہ بچوں کو خدا کی وحدانیت کے تصور اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور سمجھانے کا موقع بھی ہوناچاہئے۔ ہم اسکولوں اور اداروں کی انتظامیہ پر زور دیتےہیں کہ وہ اس تنوع اور انتخاب کی آزادی کا احترام کریں ۔
نرگند اور دیگر مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات :ہم نرگند میں ہوئے حالیہ پُر تشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک مسلم نوجوان کی موت ہوئی اور ایک دوسرا شدید زخمی ہوا۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صورت حال متاثر رہی ہے اور اس پر بہت پہلے قابو پالیاجانا چاہئےتھا۔ عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں ، مورل پولیسنگ ، مساجد کے بارے میں بے بنیاد تنازعات اور الزامات لگانے وغیرہ کی صورت میں گذشتہ چند مہینوں کے دوران متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ہم پولس اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتےہیں کہ وہ شر پسند عناصر کو اس کی اجازت نہ دیں۔ ہماری ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب ہونے نہ دیں۔ حالات کو سیاسی رنگ دینے اور بگاڑنے کی کوشش کرنےوالے عناصر سے سختی سے نمٹیں۔ متنازعہ تبدیلیٔ مذہب مخالف بل نے بھی ماحول کو خراب کیا ہے، اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اسے آگے نہ بڑھایا جائے بلکہ اس کو منسوخ کردیا جائے۔