بنگلورو :20؍ مارچ (ایس اؤ نیوز) با حجاب کالج طالبات کی طرف سے حجاب کو کلاسس میں اجازت دئے جانے کو لے کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی عرضی داخل کرتے ہی کرناٹک حکومت نے ریاست کے کالجوں میں زیر تعلیم مسلم طلبہ کی تعداد کا پتہ لگانے کے اقدامات شروع کردئے ہیں۔
میڈیا میں آئی اطلاع کے مطابق اسکولوں اور کالجوں میں حجاب کے ساتھ کلاسوں میں حاضری کی منظوری کو لےکر داخل کی گئی عرضیوں کو جب کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کردیا تو طالبات نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس کے بعد ریاستی حکومت اب اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہے کہ کالجس میں مسلم طلبہ اور طالبات کی تعداد کتنی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حکومت اس بات کا بھی پتہ لگارہی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کتنی مسلم طالبات حجاب کے بغیر کلاسس اٹینڈ کررہی ہیں اور کتنی طالبات حجاب کو لے کر کلاسس کا بائیکاٹ کررہی ہیں۔
حکومت نے آفسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بالخصوص اُڈپی اور کنداپور کی کالجس کی تفصیلات جمع کریں کہ کالجس میں جملہ کتنی طالبات ہیں، اُن میں مسلم طالبات کتنی ہیں اور اُن میں سے کتنی مسلم طالبات حجاب کے بغیر کلاسس اٹینڈ کررہی ہیں۔
ساجدہ بیگم نامی طالبہ نے اپنے وکیل طلحہ عبدالرحمن اور دیگر وکلاء کے ذریعے عرضی داخل کی ہے اور کہا ہے کہ جوان لڑکیاں جب تعلیم حاصل کرنے کالجس میں جاتی ہیں تو وہ اپنا سر ایک معمولی کپڑے سے چھپالیتی ہیں انہوں نے سوال کیا ہے کہ بھلا ایسا کرنے سے ’’عوامی نظام‘‘کو کس طرح کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ سرکاری حکم میں حجاب پر پابندی نہ ہونےکی وجہ سے ہائی کورٹ کو چاہئے تھاکہ وہ انتظامی قانون کے مطابق معمولی نکات پر مسئلہ کا فیصلہ کرتے، لیکن کلاسوں میں حجاب پرپابندی کوجائز ٹہراتے ہوئے ریاستی حکومت نے جو حکم جاری کیا تھا اسی کو صحیح مانتےہوئے ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا اب اسی فیصلہ پر سوال اٹھاتےہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے جس کو سپریم کورٹ نے ہولی تہوار کے بعدسماعت کرنا منظور کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا کی قیادت والی بنچ نے کرناٹکا کی مسلم طالبات کی طرف سے سنئیر وکیل سنجئے ہیگڈے کی عرضی کو قبول کرتےہوئے امتحانات کے پیش نظر فوری سماعت کوقبول کیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ پیر کو اس تعلق سے سماعت ممکن ہے۔