ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کی معروف شخصیت محترمہ رشیدہ ماسٹرنی دبئی میں انتقال کرگئی؛ القوز قبرستان میں ہوئی سپرد خاک

بھٹکل کی معروف شخصیت محترمہ رشیدہ ماسٹرنی دبئی میں انتقال کرگئی؛ القوز قبرستان میں ہوئی سپرد خاک

Sat, 23 Apr 2022 16:49:56    S.O. News Service

بھٹکل 24 اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل کی معروف شخصیت محترمہ رشیدہ باشہ المعروف رشیدہ ماسٹرنی   رمضان کے مقدس اور بابرکت مہینے میں  سنیچر دوپہر دبئی میں انتقال کرگئیں۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ اتوار صبح قریب گیارہ بجے  دبئی کے القوز قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

مرحومہ قریب دو سال سے دبئی میں اپنے فرزند کے ساتھ رہائش پذیر تھیں، ڈیڑھ ماہ قبل جب طبیعت بگڑ گئی تو انہیں اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا،  سنیچر صبح انہوں نے آخری سانس لی اور ہمیشہ  کے لئے داعی اجل کی آواز پر لبیک کہہ گئی۔   

75 سالہ مرحومہ محترمہ رشیدہ  نے کرناٹک کے مرکارہ میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی، ہائی اسکول اور اعلیٰ تعلیم انہوں نے بنگلور میں حاصل کیں۔  بی ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہیں بھٹکل میں خواتین کی تعلیم   کی ذمہ داری سونپی گئی اور  1972 میں جب بھٹکل میں انجمن گرلز ہائی اسکول کی شروعات ہوئی تو  محترمہ رشیدہ ماسٹرنی کو  اسکول کی  ہیڈمسٹریس مقرر کیا گیا،  اسکولوں میں اُس وقت  بچیو ں کو ہائی اسکولوں میں پڑھانے کا رواج  عام نہیں تھا، لیکن  محترمہ  رشیدہ نے خواتین میں تعلیمی بیداری پیدا کرتے ہوئے ان میں تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرنے اور آگے بڑھانے میں  نہایت اہم رول ادا کیا۔ لڑکیوں میں  ایک دوسرے پر سبقت  لے جانے  اور اُن کو نمایاں نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کی طرف اُبھارنے  میں   محترمہ  نے اہم  رول ادا کیا۔ جب لڑکیوں کے لئے انجمن پی یو کالج کی شروعات  ہوئی تو مرحومہ کو ہی کالج پرنسپال کی بھی ذمہ داری سونپی گئی اور جب انجمن نے ویمن ڈگری کالج کی شروعات کی تو اُُ س وقت بھی انہیں ہی  ڈگری کالج کا پرنسپال منتخب کیا گیا۔ 

سو سالہ قدیم ادارہ انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے اہم بانی مرحوم ایم ایم صدیق کی نواسی اور بھٹکل کے  قائد مانے جانے والے  اُس وقت  کی حکومت میسور کے ڈپٹی منسٹر(برائے الیکٹری سٹی اور برائے فائنانس)   اور  انجمن کے سابق  سکریٹری سمیت قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر رہ کر بھی خدمات انجام دینے والے مرحوم جوکاکو شمس الدین  کی دُختر رشیدہ ماسٹرنی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے نہ صرف لڑکیوں بلکہ اسکول و کالج کے ٹیچروں پر بھی اپنا رعب  اور دبدبہ قائم کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں خواتین کو آگے بڑھانے میں  مکمل طور پر کامیاب رہیں۔  یاد رہے کہ ان کے بھائی مرحوم عبدالرحیم جوکاکو  صاحب بھی انجمن کے جنرل سکریٹری سمیت انجمن کے  صدر رہ کر قوم و ملت کے لئے  بہترین خدمات  انجام دے چکے ہیں۔

بھٹکل کے مشہور عالم دین مولانا عبدالعظیم قاضیا ندوی کے مطابق  مرحومہ گوناگو صلاحیتوں کی مالک تھیں، اسکول میں  بچوں پر ان کا اچھارعب تھا، مکمل بااخلاق اور فیشن سے دور مرحومہ نے بھٹکل کی ہزاروں خواتین کو  تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا، وہ انگریزی، سائنس اور  بائیولوجی کی اچھی معلمہ تھیں۔ مرحومہ  رشیدہ کی  ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ مرحومہ کی ابتدائی تعلیم چونکہ مرکارہ  (مڈکیری) میں ہوئی تھی، اس لئے کنڑا میں اُن کو مہارت حاصل تھی، انہوں نے بعد میں بی ایڈ کیا پھر اُردو میں ایم اے کیا تھا،  اس طرح وہ  اُردو، انگریزی اور کنڑا  کی بھی اچھی ٹیچر تھی۔ مرحومہ نے اپنی زندگی کے قیمتی 37 سال انجمن کے لئے وقف کئے،  ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے قریب پانچ  سال تک دعوت سینٹر میں واقع خواتین کے لئے قائم  الکوثر کالج میں بھی بطور پرنسپال اپنی خدمات انجام دیں۔

انجمن پی یو کالج کی پرنسپال محترمہ فرزانہ فرح کے مطابق بھٹکل میں تعلیم نسواں کی داغ بیل انھوں نے ڈالی. گھر گھر ، جا کر رابعہ آپا کے ساتھ  خواتین کی ذہن سازی کی. طعنے سنے، صلواتیں سنیں، وقتی طور پر سماجی بائیکاٹ کا بھی سامنا کیا، مگر پائے  استقلال میں لرزش نہ آئی۔ فرزانہ فرح کے مطابق دو سال تک مجھے بھی ان کی شاگردی کا شرف حاصل رہا . یہ سعادت جن جن کے نصیب میں آئی ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہ کریں گے کہ رشیدہ میڈم ایک مثالی اور ان تھک استانی رہی ہیں. ہر شاگرد پر خصوصی توجہ دینے والی، تفصیل سے سبق  سکھانے والی،وقفے وقفے سے سوالات کر نے والی،  جماعت میں بآواز بلندسبق پڑھنے کی تاکید کرکے تلفظ کی تصحیح کرنے والی، جوابی پرچوں کی باقاعدہ جانچ کرنے والی. جنھوں نے صرف نصابی تعلیم پر اکتفا نہ کرتے ہوئے طالبات کی خودی، نفس اور کردار کی بھی تربیت کی  ہے. الحاد کے کے اس دور میں اپنے عقائد کی استواری کے لیے خود بھی بیدار رہیں اور دوسروں کو بھی چوکنا رکھا. اپنی بنیاد سے  انحراف نہیں  کیا اور یوں زندگی کی تفہیم کے راستے تلاش کرنے میں نئی نسل کی معاون رہیں . 

ان کے انتقال پر نہ صرف انجمن بلکہ  بھٹکل کے مختلف اداروں کے ذمہ داروں نے  بھی نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  گھروالوں کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے، مرحومہ کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ اٰمین


Share: