بھٹکل:5؍جنوری (ایس اؤ نیوز)حالیہ اختتا م پذیر ہوئے گرام پنچایت انتخابات میں تعلقہ کے 16 میں سے 11گرام پنچایتوں میں کانگریس کے تائیدی ممبران نے زبردست جیت درج کی ہے۔ بی جے پی صرف 3گرام پنچایتوں تک ہی محدو د ہوکر رہ گئی ہے۔ لیکن صدور و نائب صدور کے عہدوں کے لئے ریزرویشن کا اعلان کئے جانے کے بعد بی جے پی حساب کتاب بدلنے کی کسرت میں مگن دکھائی دے رہی ہے۔ کم سے کم 7گرام پنچایتوں میں بی جےپی اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کئےجانےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
فی الحال کوپا، بائیلور، ماولی-1، ماولی -2،کائی کنی ، بینگرے ، شرالی، ہیبلے ، یلووڑی کوؤور ، بیلکے اور ماروکیری پنچایتوں میں کانگریس تو ماوین کوروے ، کونار اور ہاڈولی میں بی جےپی کے زیادہ ممبران کامیا ب ہوئے ہیں۔ منڈلی اور مٹھلی میں کوئی بھی اقتدار پر قابض ہوسکتاہے۔ چونکہ یہاں منتخب ممبران کسی پارٹی یا پارٹی کے نشان پر جیت حاصل نہیں کئے ہیں تو انہیں سیاسی پارٹیوں کے وھپ کا خوف نہیں ہے۔ عام طورپر یہاں منتخب ممبران کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق برائے نام ہی ہوتاہے۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند پنچایت ممبران اقتدار اور پیسہ کی لالچ میں کسی طرف بھی جھک سکتےہیں۔ یہی وجہ بھی ہے کہ نتائج کا اعلان ہوتے ہی ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر چھلانگ کا کھیل اپنے انجام کو نہیں پہنچ رہاہے۔ اب ان حالات میں آزاد ممبران کی باتوں کا کون بھروسہ کرسکتاہے۔
صبح سویرے سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا کے گھر میں کانگریسی بن کر پھول مالا پہن کراپنی دوانگلیوں سے جیت کا نشان دکھاتے ہیں تو وہی نشان شام ہوتے ہوتے رکن اسمبلی سنیل نائک کے گھر اور دفتر میں بھی نظر آتاہے۔ اب دیکھنے والوں کو یہ ایک تماشہ بن گیا ہے تو چند لوگوں کو غصہ بھی آرہاہے، مگر کیاکریں ، پنچایت کے اقتدار کے لئے اس بندربانٹ کھیل کو سلام کرنا مجبوری ہو گئی ہے۔
بی جے پی کی 7گرام پنچایتوں پر نظر:بھٹکل تعلقہ کے گرام پنچایتوں میں فی الحال تین پنچایتوں میں اقتدار پاسکتی ہے۔ مگر پارٹی لیڈران اسی پر خاموش نہیں بیٹھے ہیں ، ماولی -2میں آزادممبران کے ساتھ کانگریس ممبران کو بھی جال میں پھنسانے کی کوشش میں ہے۔ ماولی -1 میں بی جے پی لیڈران کانگریس ممبران ہی کے سہارے حکومت کا خواب دیکھنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ کائی کنی میں گرچہ بی جےپی کے حمایتی ممبران زیادہ تو نہیں ہیں،لیکن ریزرویشن کے سہارے قسمت جاگنے کے انتظار میں ہیں۔ اسی طرح منڈلی اورمٹھلی میں بی جےپی نے آزاد ممبران سے لگاتار رابطہ میں رہتےہوئے انہیں مختلف امیدوں کے سہارے اپنانے کی کوشش میں رہنے کی خبریں ہیں۔
دوسری طرف بی جےپی کے کھیل کو دیکھتےہوئے کانگریس لیڈران بھی خاموش نہیں بیٹھے ہیں بلکہ منتخب ممبران کو اپنی پکڑ رکھتےہوئے انہیں سمجھا رہی ہے کہ فوری فیصلہ لےکر اپنے سیاسی مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالیں بلکہ آئندہ سب کچھ اچھا ہونےکی بات سمجھائی جارہی ہے۔ منڈلی اور مٹھلی میں کانگریس بھی وہی پنیترے کو اپنائی ہوئی ہے جو بی جے پی کررہی ہے۔