ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل شہر میں شاہراہ سے متصل شراب دکانیں بند :تین دکانوں کی منتقلی باقی

بھٹکل شہر میں شاہراہ سے متصل شراب دکانیں بند :تین دکانوں کی منتقلی باقی

Sat, 01 Jul 2017 19:07:06    S.O. News Service

بھٹکل:یکم جولائی  (ایس اؤنیوز)مارکیٹ میں جی ایس ٹی کو لے کر ہر طرف پیچیدگیاں ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق قومی شاہراہ کنارے کی شراب دکانیں جمعہ کی رات کچھ بند ہوگئیں تو چند ایک ابھی جگہ کی تلاش میں ہیں ۔

شہر کے بندر روڈ پر واقع رنگ وائنس اور ساگر روڈ کی سندھو وائنس دوسری جگہ منتقل ہونے سے پرانی دکانیں اب بند ہوگئی ہیں۔ لیکن بھٹکل شہر کے درمیان سے گزرنے والی قومی شاہراہ کے بالکل متصل رنگین کٹے کے قریب واقع فور سیزن نامی شراب کی دکان ، شرالی کی سیماوائنس شاپ اور موڈ بھٹکل کی ایم ایس آئی ایل کی شراب دکانیں بندتو ہوئی ہیں لیکن اس کے مالکان نئی جگہ کی تلاش میں ہونے کی جانکاری موصول ہوئی ہیں۔ شراب کی دکانیں بند ہونے سے بتایا جارہاہے کہ حکومت کو سالانہ چار ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوگا۔

بتایا جارہا ہے کہ ہائی وے پر واقع شراب کی دکانیں بند ہوجانے کے بعد شراب کی لت میں عادی افراد دوسری دکانوں کو کھوجنے میں لگ گئے ہیں ۔ وہیں یہ بھی خدشہ جتایا جارہاہے کہ دیگر غیر قانونی راستوں سے لاکھوں روپئے کی شراب کچھ ہوٹلوں اور  دکانوں کو سپلائی ہوسکتی ہے، اس سلسلے میں سیماوائنس کے مالک بی کے نائک نے بتایا کہ ان کی شراب دکان بند ہونےسے اُنہیں معاشی طورپر بڑا نقصان ہواہے ، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ رجسٹرڈ دکانوں سے شراب کی فروخت کاری بند ہونے سے غیر قانونی طورپر شراب کی فروخت کاری میں اضافہ ہوگا۔ اور اس طرح حکومت کو ملنےوالی آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔

اُدھر عوامی سطح پر بالخصوص  خواتین کے حلقو ں میں کچھ راحت محسوس کی جارہی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ صرف قومی شاہراہ سے متصل ہی نہیں بلکہ ریاست بھر میں  شراب کی دکانوں کو  بند کیا جانا چاہئے، اور اس سے حکومت کو جونقصان  ہورہاہے اُس کی بھرپائی دیگر وسائل اور ذرائع سے حاصل کرنا چاہئے ۔ شراب کے عادی لوگوں کے گھروں کی  خواتین کا کہنا ہے کہ  شراب بندی سے سماجی سطح پر جو سکون اور راحت ہوتی ہے وہ آمدنی سے کہیں زیادہ موثر اور مفید ہیں۔


Share: