بھٹکل :25؍ مارچ (ایس اؤ نیوز) جمعرات کو میونسپالٹی صدر پرویز قاسمجی کی صدارت میں منعقدہ میونسپالٹی کی ماہانہ عام میٹنگ میں شہر کے مختلف مسائل پر ممبران نے بحث کرتےہوئے جلد حل کرنےپر زور دیا۔
میٹنگ کے دوران میونسپالٹی کی چیف آفیسر رادھیکا ایس نے حکومت سے موصولہ سرکلر کو پیش کرتےہوئےبتایا کہ جائیداد ٹیکس میں 3سے 5فی صد اضافہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔الطاف کھروری اورپاسکل گومس سمیت کئی ممبران نے ٹیکس میں اضافے پر سخت اعتراض جتایا۔ الطاف کھروری نے کہاکہ بھٹکل میونسپالٹی میں جب اڈمنسٹریٹر تھے تو اس وقت 15فی صدجائیداد ٹیکس میں اضافہ کیاگیا ہے اب دوبارہ تین فی صد اضافے سے عوام پر بوجھ ہوگا۔ کورونا سمیت کئی وجوہات سے عوام مشکلات میں ہیں ابھی تک وہ معمول پر نہیں لوٹے ہیں ، تجارت بھی دھیمی رفتار سے چل رہی ہے ان پریشان کن حالات میں جائیداد ٹیکس کے اضافےکی ہم سب ممبران مخالفت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ اگر چاہیں تو اگلے سال ٹیکس میں اضافہ کریں۔
چیف آفیسر نے وضاحت کرتےہوئے کہاکہ سرکاری حکم کے مطابق ٹیکس میں اضافہ نہیں کیاگیا تو میونسپالٹی کو ملنے والی امداد میں کٹوتی کی جائے گی اور اعلیٰ افسران سے ہمیں شوکاش نوٹس موصول ہوگی۔ انہوں نے یہ کہہ کر ممبران کو مطمئن کرنے کی کوش کی کہ 3فی صد کااضافہ کرنے سے کسی پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔لیکن ممبران امسال ٹیکس میں اضافے کےخلاف بضد رہتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اپنی مخالفت کااظہار کیا۔ اکثریت کی رائے ٹیکس اضافےکے خلاف ہونے کی وجہ سے صدر نے ٹیکس اضافے کو چھوڑ دیا۔
نائب صدر محمد قیصر محتشم نے بات کرتےہوئے کہاکہ گذشتہ سال اندرونی نالیوں اور صفائی کا کام مناسب طریقے سےانجام نہیں دیاگیا ہے۔ ہر طرف پانی جمع ہونے سے عوام کو کافی مشکلات جھیلنی پڑی ہیں، انہوں نے کہا کہ کم از کم امسال اندرونی نالیوں کی صفائی ڈھنگ سے کیا جانا چاہئے۔ سنئیر صحت عامہ افسر سوجیا سومن اور انجنئیر امیش نے بتایا کہ شہر کے 6جگہوں پر پانی زائد مقدار میں جمع ہوتاہے۔ انہوں نے متعلقہ چھ جگہوں پر صفائی پرخاص توجہ دینے کی بات کہی۔میونسپل حکام کو ہدایت دی گئی کہ میونسپالٹی میں ٹپّر، ٹراکٹر سب کچھ ہے مزدوروں کو لے کر صفائی کا کام کیا جائے اور اس بار موسم باراں میں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔
شہری حدود میں چونکہ شاہراہ کا تعمیر ی کام جاری رہنے کی وجہ سے کئی جگہوں پر پانی گھروں میں گھس جاتاہے۔ اس سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران کو بارش سےپہلے ہی پیشگی کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کرنے ممبر الطاف کھروری نے مطالبہ کیا۔ ممبر شری کانت نائک نے مطالبہ کیا کہ آسارکیری میں چند جگہوں پر اندرونی نالیوں کا گندہ پانی کنوؤں میں مل جانے کا خطرہ ہے اس تعلق سے پانی کی جانچ کرائی جائے کہ علاقے کے کنوؤں کا پانی پینےکے لائق ہے بھی یا نہیں ۔اندرونی نالیوں کی صفائی کے متعلق صدر پرویز قاسمجی نے جواب دیتےہوئے کہا کہ سبھی وارڈوں میں اندرونی نالیوں کی صفائی کےلئے 25لاکھ روپئے کی لاگت آئےگی۔ جن اہم جگہوں پر پانی جمع ہورہاہے ان جگہوں کو ترجیح دیتےہوئے صاف کیاجائے گا پھر اس کے بعد وارڈوں میں صفائی کاکام انجام دینے کی بات کہی۔ میٹنگ میں دیگر کئی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ میونسپالٹی ممبران ، منصوبہ جات افسر وینو گوپال شاستری سمیت افسران موجود تھے۔