بھٹکل:24/مارچ(ایس اؤ نیوز)حکومت کی طرف سے حقِ تعلیمی ایکٹ (آر ٹی ای ) کے تحت جاری کردہ نئےاصول و ضوابط کی وجہ سے دیہی علاقہ کے غریب طلبا کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ تعلقہ کے دس سے زائد گرام پنچایتوں کے غریب طلبا کو آرٹی ای کے تحت درخواست دینے کی سہولت سے محروم کیا گیا ہے۔ جمعہ کو منعقدہ پنچایت کی عام میٹنگ میں اسٹائنڈنگ کمیٹی کے چیرمین وشنو دیواڑیگا نے اس معاملے پر سخت اعتراض اُٹھایا۔
تعلقہ پنچایت صدر ایشو رنائک ، ممبر ہنومنت نائک وغیرہ نے بھی وشنو دیواڑیگا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی ای کے تحت غریب بچوں کے داخلے صرف شہری حدود تک ہی محدود کیاجاتاہے تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ بی ای اؤ وینکٹیش پٹگار نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مرکزی حکومت کا منصوبہ ہے، متعلقہ گرام پنچایت ، پٹن پنچایت ، بلدیہ حدود والے آرٹی ای کے تحت لوگوں کو عرضی دینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ شہری علاقہ حدود میں زیادہ اسکول ہونے کی بات صحیح ہے، لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے، انہوں نے اس سلسلے میں میٹنگ میں منظورہ کردہ قرار داد کو اعلیٰ افسران تک پہنچائے جانےکی با ت کہی۔ گرما کی چھٹیوں میں بھی دوپہر کے کھانے کو جاری رکھنے کی بات کہتے ہوئے پنچایت آفیسر سی ٹی نائک نے کہاکہ اس سلسلے میں سب سے پہلے والدین کو سمجھاکر کھانے کے مرکز کی نشاندہی کرنی ہوگی ، پھر اس کے بعد جو طلبا دوپہر کا کھانا چاہتے ہیں اور جو نہیں چاہتے ان کے سرپرستوں سے حلف نامہ لے کر ضروری اقدامات کرنے کےلئے بی ای اؤ کو ہدایات دیں۔
پنچایت ممبر مالتی دیوڑیگا نے کہا کہ فاریسٹ حقوق کو لے کر اے سی کی قیادت میں ہونے والی میٹنگ میں فاریسٹ حق کمیٹی کے صدر کو شرکت کا موقع نہیں دیا گیا ہے، انہیں عرضیوں کی جانچ کی معلومات بھی نہیں دی جاتی ہے، لیکن عوام انہی سے معلومات کی جانکاری پوچھتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کرنے کی صورت میں اس کا حل کیا ہے ؟ سماجی فلاح وبہبودی آفیسر ونایک نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اصول کے مطابق صدر کو میٹنگ کے لئے مدعو نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن عرضیوں کے متعلق مکمل جانکاری صدر اور ممبران کو وقت پر دی جاتی ہے ۔ نائب صدر رادھا اشوک وئیدیا بھی میٹنگ میں موجود تھیں۔