بھٹکل 15؍ستمبر(ایس او نیوز) شہر میں پاگل کتوں کے حملے میں چار دنوں کے اندر 8افراد زخمی ہوگئے جس میں ایک دس سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ کچھ زخمیوں کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد اڈپی کے سرکار ی اسپتال میں منتقل کیے جانے کی بھی اطلاع ملی ہے۔ اس کے علاوہ مٹھلی کے علاقے میں آوارہ کتوں کے ذریعے جانوروں پر بھی حملہ کیے جانے کی خبریں مل رہی ہیں۔
ایک تو آوارہ اور پاگل کتوں کی وجہ سے لوگ پریشان تھے ہی، مگر ان کتوں کے کاٹنے کے بعد لگائے جانے والے انجکشن سرکاری اسپتال میں موجود نہ رہنے سے لوگ اور زیادہ خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ کیونکہ کتے کے کاٹ لینے پر یہ انجکشن بازار کی نجی دکانوں سے خریدنا پڑتا ہے جس کی قیمت 2ہزار سے 4ہزار روپیوں تک ہوتی ہے ، اوربات ایک انجکشن پر ختم نہیں ہوتی بلکہ تین سے پانچ انجکشن کا شیڈول ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پاگل کتا کاٹنے پر دوسرے ایک او ر قسم کے اضافی انجکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس کا خرچ ہزاروں روپیوں میں آتا ہے جو کہ غریبوں کے لئے کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔
سرکاری قوانین کے مطابق بلدی اداروں کو چاہیے کہ وہ شہر میں آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لئے ان کی نس بندی (افزائش نسل پر روک لگانے) کی مہم چلائے، لیکن ضلع کے دوسرے شہروں کی طرح بھٹکل کا بھی یہی حال ہے کہ بلدی ادارے اس تعلق سے غفلت اور بے پروائی کامظاہرہ کرتے ہیں۔ اور بے چارے عوام کی جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔جن علاقوں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ گھومتے نظر آتے ہیں وہاں پرعوام اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول بھیجنے سے خوف کھاتے ہیں۔ رات کے وقت سڑکوں پر گزرنے والے لوگ جیسے جان ہتھیلی پر لے کر چلتے ہیں۔
بلدی ادارو ں کی طرف سے کوئی اقدام نہ کیے جانے پر کچھ مقامات پر عوام نے خود ہی ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر آوارہ کتوں سے نمٹنے کی مہم چلائی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کتوں سے درپیش جان لیوا خطرے سے ہماری اور اپنے بچوں کی جان بچانے کے لئے ہمارے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔
تعلقہ سرکاری اسپتال کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مورتھی راج بھٹ کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال میں کتوں کے کاٹنے کے بعد دئے جانے والے انجکشن تو موجود ہیں، لیکن پاگل کتے کے کاٹنے پر دیا جانے والے اضافی انجکشن کا اسٹاک اسپتال میں ختم ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت سے یہ انجکشن اب منگوایا گیا ہے۔ادھر بھٹکل تحصیلدار وی این باڈکر نے کہا کہ بھٹکل میں پاگل کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں میونسپل کاؤنسل اور پنچایت کے ذمہ داران کے ساتھ میٹنگ منعقد کرکے اس صورتحال پر قابو پانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔