بھٹکل:7/اکتوبر(ایس او نیوز) گھر، کھیت سب کچھ ہونے کے باوجود نظر انداز کئے جانے پر ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوکردو دہوں سے اِدھر اُدھر ہاتھ پھیلاتے ہوئے راستے کنارےزندگی گذارنے والے کو اب ڈھلتی عمر میں مختلف محکمہ جات کے افسران نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ اس شخص کی شناخت تعلقہ کے کونار گرام پنچایت حدود کے مادیو شنیا ر نائک کی حیثیت سے کی گئی ہے ، جس کی ملکیت میں 30گنٹہ زمین سمیت گھر سب کچھ ہے، اس کا ایک بھائی زمین کی دیکھ بھال کرتے ہوئے اپنے خاندان کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہاہے، بتایا گیا ہے کہ 20-25 سال پہلے مادیو نائک کی بیوی مادیو کو چھوڑ کر چلی گئی ، یادداشت اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ مادیو کو اپنے بچوں کے نام تک یاد نہیں ہیں، لاچار کیا کرتا، تنہائی میں مزدور ی کرتے ہوئے زندگی کے سفر کو آگے بڑھایا۔ چند دنوں تک ایک استاد کے باغیچے میں مزدوری کرنے کے بعد علاقہ کے مختلف گھروں میں 10سال تک کام کرتے ہوئے اپنا پیٹ بھرنے لگا۔ جن لوگوں کے ہاں کام کیا کرتاتھا ان کی ہمدردی اس کے ساتھ تھی ، کام کے ساتھ کھانا پینااور سونے کے لئے کچھ جگہ بھی مہیا کرتے تھے۔ مزدوری سے اپنا پیٹ بھرنے والے مادیونائک کو ہرنیا نامی بیماری نے آگھیرا جس سے وہ زندہ لاش بن گیا ، یہاں سے اس کی زندگی نے دوسرا موڑ لیا، مزدوری کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے کمائی بھی نہیں ہوئی تو ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوکر، اُن کے گھر میں کھانا کھاکر بس اسٹانڈ کو ہی اپنا سہارا بنا لیا۔ اتنے لمبے عرصے تک بغیر علاج کئے اس بیماری کو برداشت کرنےکے نتیجےمیں اب وہ گیانگرنگ نامی بیماری میں مبتلا ہوگیا ہے، جہاں بیٹھتا ہے وہی اس کا مسکن بن جاتا ہے ۔ چونکہ مادیو نائک کا بسیرا علاقہ کے بس اسٹانڈ میں ہوتا تھا اس کی بیماری کی بدبو نے شہر والوں کو پتہ دیا، اس طرح معاملہ مقامی پنچایت کو پہنچا۔ پنچایت آفیسر مہیش نے ، مادیو نائک کے تعلق سے چھان بین شروع کی اور اس کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس کے بھائی کے نام نوٹس جاری کی، مگر اس کابھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو پولس کا تعاون طلب کیا۔ مادیو نائک کے بھائی کو پورے حالات سمجھانے کے بعد اب مادیو کو سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ مادیونائک کی 20-25سال گزری زندگی کو دیکھیں تو پتہ چلتاہے کہ معاشرے میں بزرگوں کی قدر کتنی ہے اور ان کی کیسی درگت ہوتی ہے ۔ یقیناً یہ کہانی ہر کسی کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
مادیو نائک کے حالات پر کونار گرام پنچایت کے آفیسر مہیش نے بتایا کہ اتنے لمبے عرصےتک ایک شخص نے جب تنہا دکھ اٹھایا تو کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی، مگرجب سماجی سطح پرکوئی مسئلہ پیدا ہوا تو لوگوں نے پنچایت میں شکایت کی ، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس کی مدد کے لئے آگے نہیں بڑھا۔ پنچایت میں شکایت موصول ہونے پر کارروائی کرنا ہماری مجبوری بن گئی۔ گرام پنچایت آفسر نے مزید بتایا کہ اب پنچایت صدر بھی مدد کے لئے آگے آئے ہیں اور ہماری طرف سے جو کچھ بن پائے گا، اب ہم کریں گے ۔