ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کورونا لاک ڈاون؛ رمضان کا بیوپار چوپٹ ، دکاندار پریشان، حکام نے بند کرائی دکانیں، دو گھنٹوں کی چھوٹ دینے دکانداروں کی اپیل

بھٹکل کورونا لاک ڈاون؛ رمضان کا بیوپار چوپٹ ، دکاندار پریشان، حکام نے بند کرائی دکانیں، دو گھنٹوں کی چھوٹ دینے دکانداروں کی اپیل

Fri, 30 Apr 2021 11:48:01    S.O. News Service

بھٹکل 30 اپریل (ایس او نیوز)  کورونا لاک ڈاون کے دوران صبح چھ بجے سے دس بجے تک روزمرہ کی  ضروری اشیاء کی دکانوں کو کھولنے کی جو اجازت دی گئی ہے،  ہمیں بھی کم ازکم دو گھنٹے دکانیں کھلی رکھنے کی چھوٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پھر ایک بار  بھٹکل بازار میں ریڈی میڈ گارمنٹس کے  دکانداروں نے  اپنی اپنی دکانیں کھول کر میونسپل حکام سے درخواست کی، مگر میونسپل حکام نے یہ کہہ کر اُن کی دکانوں کو بند کرایا کہ انہیں   دکان کھولنے کی اجازت دینے کا  اختیار نہیں ہے۔

صبح قریب آٹھ بجے ماری کٹہ بازار  میں جیسےہی بعض دکانداروں نے  اپنی کپڑوں کی دکانیں کھولیں، پہلے پولس جیپ    دکانوں کو بند کرنے کی درخواست کرتے ہوئے دکانوں کے سامنے سے گذرگئی، پھر   ٹاون میونسپل چیف آفسر دیوراج اپنے عملہ کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ گئے اور دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کی اپیل کی،ویسے تو دکانداروں نے  پولس کی اپیل  پر ہی  فوری عمل کرتے ہوئے  دکانوں کےشٹر گرادئے، مگر بعد میں چیف آفسر کی آمد پر اُن  سے درخواست کی کہ  دیگر دکانوں کی طرح انہیں بھی  اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ دکانداروں نے کہا کہ  اس سال دکانیں بند کرنے سے انہیں لاکھوں اور  کرروڑوں روپیوں  کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، دکانداروں نے درخواست کی کہ کم ازکم صبح آٹھ سے دس بجے تک دو گھنٹے دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن چیف آفسر نے کہا کہ دکانوں کو بند کرانے کے احکامات سرکار نے جاری کرائے ہیں اس میں ہماراعمل دخل نہیں ہے، ہم سرکار کے احکامات پر عمل آوری کرنے کے پابند ہیں۔ کچھ دیر بعد میونسپل صدر قاسمجی پرویز بھی جائے وقوع پر پہنچے، دکانداروں نے   میونسپل صدر سے بھی درخواست کی کہ وہ ہمیں کوئی راستہ بتائیں کہ ہم   کاروبار کیسے کریں، اپنا لایا ہوا اسٹاک  کہاں لے جاکر بیچیں ؟  میونسپل صدر نے بھی یہی کہا کہ دکانوں کو کھولنے کی   اجازت دینے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔ بالاخر پریشان حال دکانداروں کو اپنی   دکانیں بند کرکے واپس اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

موقع پر موجود ایک دکاندار نے ساحل آن لائن کو   بتایا کہ گذشتہ سال  لاک ڈاون کی وجہ سے ہم دکانداروں  نے  رمضان  اور عیدالفطر میں فروخت ہونے والے  کپڑے ، چپل وغیرہ کا اسٹاک جمع نہیں کیا تھا اور ہم نے ایڈوانس میں  کوئی خریداری بھی نہیں کی تھی ، البتہ لاک ڈاون ہونے کی وجہ سے ہم  لاکھوں روپیوں کا  منافع  کمانے سے  رہ گئے تھے اور کسی طرح کا کاکاروبار نہیں کرسکے تھے، ۔ ظاہر بات ہے کہ جب ہم  نے مال نہیں خریدا اور دکانوں میں اسٹاک جمع نہیں کرایا تو  فیکٹری والوں اور ہول سیل  کاروبار کرنے والوں کو زیادہ نقصان ہوا  ہوگا،   کیونکہ ایک طرف فیکٹری میں مال جمع رہ گیا تھا تو دوسری طرف  ہول سیل والوں کا اسٹاک بھی ختم نہیں ہوسکا تھا، مگر اس بار حکومت نے بار بار اس بات کا اعلان کیا تھا کہ  کرناٹک میں لاک ڈاون نافذ نہیں کیا جائے گا یا کرونا کرفیو نافذ نہیں ہوگا، ہم نے حکومت کے اعلانات  پر بھروسہ کرتے ہوئے فیکٹریوں اور  ہول سیل  والوں سے لاکھوں مالیت کا مال خریدا ، جیسے ہی ہم نے اسٹاک جمع کیا، حکومت نے اچانک لاک ڈاون کا اعلان کردیا، جس کی وجہ سے ہمیں امسال اتنا شدید نقصان ہورہا ہے کہ ہمارے جینے کے لالے پڑ گئے ہیں،  اس دکاندار کے مطابق   اسے  ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا منشاء  فیکٹریوں  کا مال خالی کرانا تھا جس کے لئے حکومت نے بار بار کہا تھا کہ اس بار لاک ڈاون نہیں ہوگا، لیکن جیسے ہی فیکڑی کا مال خالی ہوا، لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا  جس کا خمیازہ اب ہم چھوٹے بیوپاریوں کو بھگتنا  پڑ رہا ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ اُس نے حال ہی میں نئی دکان کھولی ہے  اور  رمضان میں اچھا کاروبار کرنے کی نیت سے 60 لاکھ روپئے مالیت کا مال اسٹاک کرایا ہے، اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اتنے زیادہ اور قیمتی   مال کا کیا ہوگا، سامنے والے کو رقم کی ادائیگی کہاں سے ہوگی، دکان کا کرایہ الگ  سے کہاں سے بھرسکوں گا ؟

عیدالفطر کے لئے بمشکل  پندرہ دن باقی رہ گئے ہیں،  ہر سال  کاروباریوں کے لئے یہی پندرہ دن  کاروبار کرنے کے لئے بے حد اہم  دن ہوتے ہیں، ان ہی ایام میں بھٹکل میں  پاس پڑوس کے دیہاتوں سمیت پڑوسی اضلاع کے  بھی سینکڑوں گاہک آتے ہیں اور اپنی پسند کا مال خرید لے جاتے ہیں، اب  لاکھوں کا مال جمع کرنے کے بعد دکانوں کو ہی کھولنے کی اجازت نہ دینے پر  ایک طرف دکاندار حکومت سے سخت نالاں ہیں وہیں  سخت پریشان بھی ہیں۔

 


Share: