بھٹکل:31اکتوبر(ایس او نیوز) ملک کی آزادی کے بعد مسلمانوں میں گرچہ تعلیمی شعور بیدارہوا ہے، جماعتوں اور اداروں کی طرف سے کئی تعلیمی ادارے متحرک ہیں اور مسلم طلبا و طالبات کے لئے مواقع مل رہے ہیں ، لیکن مسلمانوں کے مجموعی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے، اس کی کئی وجوہات ہوسکتے ہیں ان میں سے ایک اہم وجہ مسلمانوں کا سول سروس کے امتحانات میں شریک نہیں ہونا بھی مانا جاتاہے۔ اسی فکر کولے کر بھٹکل کے آزاد نگرفرینڈس اسوسی ایشن نے اتوار کو مولاناا بوالحسن علی میاں اکیڈمی کے الحاج محی الدین منیری ؒ کے ہال میں ’’ اورینٹیشن پروگرام اِن سول سروسس ‘‘ کے موضوع پر طلبا و سرپرستوں کے لئے ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
اجلاس میں ماہرین نے اپنے تجربات کی روشنی میں طلبا کوسول سروسس جیسے آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، آئی آر ایس جیسے امتحانات کے متعلق ابتداء سے لے کر انٹرویو تک کیا کیا کرنا ہوتاہے ، تیاری کیسی ہو، کن کن مراحل سے گذرنا ہوتاہے وغیرہ تفصیلات پر اظہار خیال کیا۔ ورکشاپ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، صبح کا پہلا سیشن امتحانات کے متعلق مکمل جانکاری پر مشتمل تھاتو دوسرا سیشن امتحانات کی تیاری ، مضامین ، انٹرویو وغیرہ کے متعلق طلبا کی رہنمائی کے لئے مختص تھا۔
صبح کے سیشن میں پی اے انجنئیرنگ کالج منگلورو کے اسسٹنٹ پروفیسر سید امین نے طلبا کو ہدایات دیتے ہوئے کہاکہ خود کو بدلیں، جب تک طلبا میں ذوق وشوق نہیں پیدا ہوگا، تب تک کوئی ورکشاپ ، کیمپ مفید نہیں ہونگے۔ طلبا خود آگے بڑھ کر طئے کرلیں تو پھر ہرمنزل آسان ہوجاتی ہے۔ احساس کمتری کو ختم کریں، اپنے اور ملت کے حالات کو بدلنے ، سدھارنے کا بہترین موقع یہی ہے کہ ہمارے نوجوان سول سروسس کے امتحانات میں قدم رکھیں تو قابل ذکر تبدیلی آسکتی ہے۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ہماری تعلیمی و معاشی پسماندگی ملک کی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے، اکثرمسلم نوجوان ٹکنیکل اور تجارتی کورسس کی راہ اختیار کرتے ہیں جس سے کچھ حدتک معاشی بہتری تو ہورہی ہے لیکن سماجی سطح پر کوئی خاص اثرنہیں ہوپارہاہے۔ اسی لئے مسلم نوجوانوں کو سول سروسس امتحانات کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔
کرناٹکا ہائی کورٹ کے سنئیر وکیل اور اے پی سی آر کے ریاستی صدر ذمہ دار سعدالدین نے بتایا کہ سول سروسس میں مسلم نوجوانوں کی کمی باعث تشویش ہے ، چونکہ مسلم نوجوان اس میدان سےبڑی حد تک ناواقفیت رکھتے ہیں ان کو اس میدان کی مکمل جانکاری اور ترغیب دینی ہے ایسے پروگرام بڑے کارآمد ہونے کی بات کہتے ہوئے منتظمین کی ستائش کی ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہاکہ محنت اور یکسوئی سے متعلقہ میدانوں میں کامیابی حاصل کر ممکن ہے۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے انفا کے صدر ، مولانا علی میاں اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانامحمد الیاس ندوی نے سول سروسس کے ممکنہ راہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں ملت کو پچاس ایم ایل ایز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک آئی اے ایس افسر کی ضرورت ہے ، کیونکہ اصل پالیسی تو یہی لوگ بناتے ہیں، ملک کی ہرپالیسی میں ان کااہم کردار ہوتاہے۔ اس موقع پر مولانا نے کہاکہ اگر کوئی بھٹکل کی سطح پر سول سروسس کی امتحانات کے لئے آگے آنا چاہتاہے تو وہ اپنے ادارے سے تمام اخراجات پورا کریں گے اور اسی طرح آزاد نگر علاقہ سے کوئی نوجوان خواہش رکھتاہے تو اس کے اخراجات انفا کی طرف سے پورے کئے جانے کا اعلان کیا۔
انجمن انجنئیرنگ کالج بھٹکل کے پرنسپال ڈاکٹر مشتا ق احمد بھاوی کٹی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھٹکل کے طلبا کافی ذہین ہیں ، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تمام کا رخ ایک ہی طرف ہے یعنی سب گلف جانے کی فکر کرتے ہیں، اس ذہنیت کو بدلنا ضروری ہے، ہمارے طلبا اگر احساس کمتری سے نکل کر خود اعتمادی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ امتحانات ان کے لئے بہت آسان ہونگے ۔دوپہر کے سیشن میں انجمن بی بی اے کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر جو یوپی ایس سی کا انٹرویو دے چکے ہیں اور کے اے ایس پرلم امتحان میں کامیاب ہیں انہوںنے طلبا کی ہر سطح پر رہنمائی کرتے ہوئے قیمتی جانکاری دی ۔ اسی طرح طلبا کے اشکالات کو دورکرنے کے لئے سوالات و جوابات کا موقع دیا گیا ، جس میں طلبا کی طرف سے سول سروسس امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد ملنے والی سہولیات، عہدے ، تنخواہ اور ایمانداری سے کمائی ہوگی یا نہیں جیسے سوالات کئے گئے تو ماہرین نےطلبا کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ اطمینا ن رکھیں جتنا آپ سوچ رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ سہولیات اور عہدے ، اختیارات حاصل ہوتے ہیں، کامیابی کے بعد آپ ہی راجا ہونے کی بات کہی۔ انفاکے تعلیمی سکریٹری اور پروگرام کنونیر وکیل عمران لنکا نے بتایاکہ ملک کے موجودہ ماحول میں مسلمانوں کی بقا اور تحفظ کے لئے مسلم نوجوانوں کا سول سروسس کے میدان میں قدم رکھنا لازمی ہے اسی سلسلے میں ا ن کی رہنمائی کے لئے یہ پروگرام منعقد کرنے کی بات کہی اور بتایا کہ کارنئیر اکیڈمی منگلورو ایک سول سرویس اکیڈمی ہے ، جہاں طلبا کو مکمل تربیت دی جاتی ہے، اکیڈمی میں ہاسٹل، کلاسس، لائبریری ، مسجد وغیرہ جیسی تمام سہولیات میسر ہیں، یعنی طلبا کو داخل ہونے کے بعد کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے، اس اکیڈمی کے ذریعے کوئی نوجوان تربیت پانا چاہتاہے تو وہ انفا کے عمران لنکا سے رابطہ کرنے کی اپیل کی گئی ۔
پروگرام کا آغاز حافظ فرقان شاہ بندری کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ پچھلے ایک ہفتہ سے متعلقہ پروگرام کو لے کر مختلف کالجوں کے طلبا کے درمیان بیداری لاتے ہوئے انہیں پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، پروگرا م میں کالج طلبہ کی کثیر تعداد کے علاوہ عمائدین شہر کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی ۔