نئی دہلی، 27 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات سے پہلے لیڈران اور اداکاروں کا انحراف یا پھر سیاست میں انٹری کا دور جاری ہے۔طویل سماج وادی پارٹی سے منسلک رہیں مشہور فلم اداکارہ جیہ پردہ اب بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئی ہیں۔جیہ پردا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اب ان رامپور سے پارٹی کا ٹکٹ مل سکتا ہے۔جیہ پردہ رامپور لوک سبھا سیٹ سے 2004 اور 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں۔اس مسلم اکثریتی پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی کو امیدوار مل گیا ہے جو یہاں پر ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کے علاوہ کانگریس کو بھی سخت چیلنج دے سکتی ہیں۔جیہ پردہ اپنے ڈھائی دہائی کے سیاسی کیریئر میں بہت پارٹیاں بدل چکی ہیں۔
رامپور سے 2 بار ایم پی رہنے والی جیہ کا سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کے ساتھ جنگ تیکھی ہوتی چلی گئی اور دونوں کھل کر آمنے سامنے آ گئے۔اس دوران 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے مارچ میں جیہ پردہ اپنے سیاسی دوست امر سنگھ کے ساتھ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) میں شامل ہو گئیں اور انہیں ان کی نئی پارٹی نے بجنور سے ٹکٹ دیا، لیکن انہیں مودی لہر میں کراری شکست ملی،اگرچہ جیہ پردہ کے لئے پارٹی تبدیل کرنا کوئی پہلی بار نہیں ہے۔بی جے پی ان کی چوتھی پارٹی ہے جس میں وہ شامل ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات 1994 میں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) میں شامل ہوکر کی تھی اور وہ اس پارٹی میں تقریبا ایک دہائی تک رہیں لیکن اس دوران ٹی ڈی پی بانی میں این ٹی راماراؤ کے بیمار ہونے کے بعد جب پارٹی کے کئی بڑے لیڈر چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ بغاوت کر گئے تو جیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ بھی یہ جوڑی نہیں چلی اور 2004 میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے انہوں نے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ لے لیا اور اسی سال ہوئے انتخابات میں رام پور لوک سبھا سیٹ سے الیکشن جیتنے میں کامیاب رہیں۔2004 کے انتخابات میں انہوں نے 85 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد 2009 کے انتخابات میں وہ 30 ہزار ووٹوں کے فرق سے فاتح ہوئیں۔
رامپور اتر پردیش میں ان لوک سبھا سیٹوں میں شامل ہے جہاں پر مسلم کمیونٹی اکثریت ہے۔مغربی اترپردیش کے علاقے میں پڑنے والے رام پور سیٹ پر 50 فیصد سے بھی زیادہ کی آبادی مسلمانوں کی ہے۔اس علاقے کو سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے،تاہم 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے نیپال سنگھ نے سب کو چونکاتے ہوئے جیت درج کی تھی، لیکن انہیں یہ جیت مودی لہر میں ملی تھی۔2014 میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان کانٹے کی ٹکر دیکھنے کو ملی تھی۔انتخابات میں بی جے پی کے نیپال سنگھ کو 37.5 فیصد اور سماج وادی پارٹی کے نصیر احمد خان کو 35 فیصد ووٹ ملے تھے۔نیپال سنگھ کی جیت کا فرق محض 23435 ووٹوں کا ہی تھا۔نیپال سنگھ کی اس غیر متوقع جیت کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار کسی لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش سے ایک بھی مسلم ایم پی منتخب نہیں کیا جا سکا۔لیکن اس بار بدلے سیاسی مساوات میں بی جے پی کے لئے یہ سیٹ بچا پانا آسان نہیں مانا جا رہا کیونکہ ریاست میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے باہمی اتحاد کر لیا ہے۔ایسے میں بی جے پی کو کسی قدآور لیڈر کی تلاش تھی، اب جیہ پردہ کے پارٹی میں آ جانے سے اس کی تلاش پوری ہوتی نظر آرہی ہے۔رام پور میں تیسرے مرحلے میں انتخابی عمل شروع ہو جائے گا اور اب دیکھنا ہوگا کہ بی جے پی جیہ پردہ کو ٹکٹ دیتی ہے یا نہیں۔